خطبات محمود (جلد 22) — Page 579
خطبات محمود 579 * 1941 برطانیہ کا تعلق ہے مظلومیت کی لڑائی ہے۔اس لئے اس میں حصہ لینا بھی ثواب کا موجب ہے۔پھر بھی جہادِ اکبر کے مقابلہ میں اس کی کچھ حقیقت نہیں۔اگر دینی جہاد ہوتا تو اس میں حصہ لینے والے تو بہت ہی زیادہ ثواب کے مستحق ہوتے مگر پھر بھی جہاد اکبر جیسا درجہ اس کا نہ ہو سکتا بے شک اس وقت لڑائی کی وجہ سے بہت مصروفیت ہے۔جو لوگ اس میں حصہ لے رہے ہیں وہ ہر وقت مصروف رہتے ہیں اور ہر طرف اس لڑائی کی وجہ سے شورش اور ہنگامہ بپا ہے۔مگر پھر بھی ہمارے دوستوں کو اس کی وجہ سے جہادِ اکبر کو کسی وقت بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے۔کیونکہ اس شخص سے زیادہ احمق کون ہو سکتا ہے جو چھوٹی چیز کے لئے بڑی کو قربان کر دے۔اللہ تعالیٰ نے جہاں آنحضرت صلی ال یکم اور پہلے انبیاء کے ذریعہ بھی یہ اطلاع دی تھی کہ آخری زمانہ میں شدید جنگیں انسانوں کی انسانوں کے ساتھ ہوں گی۔وہاں رسول کریم صلی ال لما بلکہ پہلے انبیاء نے یہ خبر بھی دی تھی کہ اس زمانہ میں مسیح موعود کی فوجوں کی شیطانی طاقتوں کے ساتھ جنگ ہو گی۔بنی اسرائیل کے انبیاء کے علاوہ حضرت زرتشت کی بھی ایسی پیشگوئی موجود ہے ان کے ایک شاگرد جاماسک نام لکھا لکھی گزرے ہیں جو اُن کے داماد بھی تھے۔انہوں نے پیشگوئیوں کی ایک کتاب ہے۔جس میں ان کی اپنی پیشگوئیاں بھی ہیں اور حضرت زرتشت کی بھی۔اس میں ہے کہ آخری زمانہ میں ایک موعود آئے گا۔آسمان سے فرشتے اس کی مدد کو اُتریں گے اور تمام شیطان بھی اکٹھے ہوں گے اور پھر ان میں آخری لڑائی ہو گی جس میں شیطان مارا جائے گا۔پس ہمیں اس ظاہری لڑائی کے شور و شغب میں باطنی لڑائی کو جو ہماری اصل لڑائی ہے کسی وقت بھی نہیں بھولنا چاہئے۔ہماری جماعت کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہم ہر وقت جنگ کے میدان میں ہیں۔یہ لڑائیاں تو ہمیشہ نہیں رہتیں۔گزشتہ جنگ سے قبل امن تھا۔پھر اس کے بعد قریباً چوبیس سال امن رہا مگر مومن کی لڑائی شیطان کے ساتھ ہر وقت جاری رہنی چاہئے اور مومن کے لئے