خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 559 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 559

* 1941 559 خطبات محمود یورپین ممالک میں ہسپانیہ کی لکھی ہوئی طب کی کتابیں ہی کالجوں میں پڑھائی جاتی تھیں اور ابھی کئی نئی چیزیں نکلتی آ رہی ہیں اور معلوم ہو رہا ہے کہ اس زمانہ کی بعض ایجادات ایسی ہیں کہ یا تو وہ مسلمانوں نے ایجاد کی تھیں مگر یوروپیز نے اپنی رف منسوب کر لیں اور یا پھر یوروپینز نے گو اپنے طور پر ہی بعض چیزوں کو ایجاد کیا۔مگر اب معلوم ہوا کہ یہ ایجادات مسلمان بھی کر چکے تھے لیکن اتنی عظیم الشان کامیابی اور یورپ پر قبضہ و تصرف کے بعد آج مسلمانوں کی کیا حالت ہے۔آج کے “الفضل ” میں ہی ہمارے ایک مبلغ نے یوگو سلاویہ کے مسلمانوں کے حالات شائع کرائے ہیں۔گو اس مضمون میں ایک غلطی بھی ہے اور وہ یہ کہ اس مضمون کو پڑھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یوگو سلاویہ کی حکومت ابھی تک قائم ہے حالانکہ کئی مہینے ہوئے جرمن والے اسے فتح کر چکے ہیں۔بہر حال یہ یوگو سلاویہ علاقہ کسی زمانہ میں ترکوں کے ماتحت ہوا کرتا تھا۔پھر یورپین لوگوں نے مل کر مسلمانوں کو یہاں سے نکال دیا۔اب مولوی محمد الدین صاحب نے اس علاقہ کے جو حالات شائع کرائے ہیں وہ کتنے درد ناک ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ وہاں مسلمان بالعموم مزدوروں یا چوہڑوں کا کام کرتے ہیں اور سڑکوں پر مزدوری کرنا یا جھاڑو دینا ان کا کام ہے۔اب کجا تو یہ حالت تھی کہ وہ یوگو سلاویہ کے بادشاہ تھے اور اب کُجا یہ حالت ہے کہ چودہ ملین آبادی میں سے صرف تین ملین مسلمان ہیں اور ان میں سے بھی سوائے چند لوگوں کے باقی سب ذلیل اور ادنیٰ حالت میں ہیں۔حکومت نے مسلمانوں سے یہ سلوک کیا کہ اس نے جبراً ان کی زمینیں چھین کر عیسائیوں کو دے دیں اور پھر ان سے کہا کہ اگر تم اپنا حق سمجھتے ہو تو عدالت میں دعویٰ دائر کر کے زمینیں واپس لے لو۔وہ غریب آدمی بھلا مقدمے کیسے کرتے۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ پہلی حالت سے بھی بدتر حالت میں جا گرے۔یہ کیسے دردناک حالات ہیں کہ ایک زمانہ میں تو مسلمان حاکم تھے مگر آج ان کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔غرض اس زمانہ میں کوئی شخص یہ قیاس بھی نہیں کر سکتا تھا کہ یورپ کبھی تر