خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 55

$1941 55 خطبات محمود تو اس نے خیال کر لیا کہ چاند پر چھائی ہوئی ارواح کو یہ بات پسند نہیں آئی اور کسی نے کوئی کام کیا جس کا نتیجہ اچھا نکلا تو اس نے سمجھ لیا کہ سورج کی روح کے نزدیک کام اچھا ہے۔نہ تو چاند نے خود بولنا ہے اور نہ سورج نے اور نہ ان ارواح نے جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ان پر چھا جاتی ہیں۔مگر آدم کیسا مطمئن تھا اور بشاشت قلب سے بیٹھا تھا کیونکہ اسے خدا تعالیٰ نے بتا دیا تھا کہ یہ سب چیزیں اس نے اس کے لئے مسخر کر دی ہیں اور یہ اس کی خدمت پر لگی ہوئی ہیں۔اس لئے اسے سورج اور چاند کی ناراضی یا خوشنودی کے سامانوں کی تلاش میں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔موحد اور خدا رسیدہ آدم ان سب پریشانیوں سے مامون و محفوظ تھا اور ان سامانوں سے فائدہ اٹھانے اور خدا تعالیٰ کی عبادت میں لگا ہوا تھا نہ سورج کا چڑھنا اور نہ اس کا ڈوبنا اس کے دل میں کوئی گھبراہٹ پیدا کر سکتا تھا۔سورج اور چاند کا چڑھنا اور غروب ہونا اس کے لئے ایسا ہی تھا جیسا اس کا اپنا سونا اور جاگنا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ سب مادی چیزیں ہیں جو خدا تعالیٰ نے میرے فائدہ کے لئے پیدا کی ہیں۔بھی ویسی ہی ہیں جیسے گھوڑے، گائیں وغیرہ ہیں۔نہ ان کی خوشی میرے لئے کسی نفع کا اور نہ ناراضگی کسی نقصان کا موجب ہو سکتی ہے۔مگر دوسروں نے کس کس رنگ میں ان چیزوں کے وجود پر بخشیں کی ہیں۔ہندوستان کے فلسفیوں کو ہی لے لو حیرانی ہوتی ہے کہ کس طرح ایک ایک چیز کے متعلق انہوں نے مختلف نظریات قائم کئے ہیں اور وہ کس کس قسم کی الجھنوں میں پڑے رہے ہیں۔یونانی فلسفہ کو دیکھو یہی حالت وہاں ہے۔قیاس اور وہم باتیں ان کو پریشان کرتی رہی ہیں۔اگر تو یہ تجسس ہو کہ سورج ایک مادی چیز ہے اس کی شعاعوں میں اللہ تعالیٰ نے کیا کیا فائدے رکھے ہیں تو یہ ایک سائنس تحقیقات ہے اس میں گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ جو اس میں لگا ہے اگر تو وہ تاجرانہ ذہنیت کا ہے تو سمجھتا ہے کہ اگر کامیاب ہو گیا تو اس تحقیقات کو فروخت کر کے مالی فائدہ حاصل کروں گا۔اگر علمی مذاق رکھتا ہے تو سمجھتا ہے کہ علمی کتاب شائع کروں گا لوگ میری قدر کریں گے۔لیکن اگر کامیاب نہ ہوا اور معلوم نہ کر سکا تو بھی کوئی نقصان نہیں ہو گا۔میرے باپ دادوں کو بھی تو یہ علم نہ تھا اور اس کے سے پیدا شدہ مختلف