خطبات محمود (جلد 22) — Page 537
1941ء 537 خطبات محمود جو اپنے باپ سے تھا وہ مہاراجہ رنجیت سنگھ سے نہیں تھا اور سیاسی فوائد کو وہ سمجھنے کے قابل نہیں تھا۔ اس لئے اس کے نزدیک سب سے بڑی رنج کی بات اپنے باپ کی وفات تھی۔ اسی طرح کئی بادشاہ بڑے ظالم ہوتے ہیں مثلاً ہلاکو خان بڑا ظالم مشہور ہے مگر جب ہلاکو خان مرا ہو گا تو کیا تم سمجھتے ہو کہ اس کے بیوی اور بچوں کو دوسروں کی بیویوں اور بچوں سے کم صدمہ ہوا ہو گا۔ یقینا انہیں ہلاکو خان کی وفات پر ویسا ہی صدمہ ہوا ہو گا جیسا نوشیرواں عادل کی وفات پر اس کے بیوی اور بچوں کو ہوا تھا۔ حالانکہ نوشیرواں عدل کی وجہ سے مشہور ہے اور ہلاکو خان ظلم کی وجہ سے۔ مگر دونوں کے بیوی بچوں کو یکساں صدمہ ہوا ہو گا۔ بلکہ ممکن ہے ہلاکو خان کے بیوی بچوں کو احساسات کے زیادہ تیز ہونے کی وجہ سے نوشیرواں کے بیوی بچوں سے بھی زیادہ صدمہ ہوا ہو۔ مگر آسمان پر دنیا میں سارے بندے خوش ہوتے ہیں۔ گو کسی کی پیدائش پر زیادہ لوگ خوش ہوتے ہیں مگر آسمان پر یہ بات نہیں۔ وہاں کسی کی پیدائش پر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے اور کسی کی پیدائش پر رنج کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اسی طرح موت کا حال ہے۔ موت پر سب لوگ رنج کا اظہار کرتے ہیں۔ گو کسی کی موت پر تھوڑے لوگ رنج کرتے ہیں اور کسی کی موت پر زیادہ رنج کرتے ہیں مگر آسمان پر یہ بات نہیں۔ وہاں کسی کی موت پر رنج کا اظہار کیا جاتا ہے اور کسی کی موت پر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ پھر یہ جذبہ بھی اموات کے لحاظ سے نسبتی طور پر تقسیم ہو جاتا ہے اور فرشتوں کا رنج اور ان کی خوشی بعض دفعہ مرکب ہو جاتی ہے۔ یعنی فرشتے صرف رنج یا صرف خوشی کا اظہار نہیں کرتے بلکہ ان کی خوشی اور ان کا رنج ملا جلا ہوتا ہے۔ مثلاً جب کوئی بد قسمت اور گنہگار انسان مرتا ہے یا ایسا ظالم انسان مرتا ہے جس نے دنیا کے امن کو برباد کیا ہوا ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ کے ملائکہ خوش بھی ہوتے ہیں کہ بندوں کو اس ظالم انسان سے نجات ملی اور وہ رنج بھی کرتے ہیں کہ اپنے مولیٰ کو راضی کرنے سے پہلے وہ شخص مر گیا۔ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کے بزرگ اور نیک لوگ فوت ہوتے ہیں اور دنیا میں