خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 518 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 518

* 1941 518 خطبات محمود روزوں کے متعلق میں کوئی اعلان نہیں کر سکا۔ہماری جماعت چونکہ دور دور پھیلی ہوئی ہے اس لئے پہلے سے ایسا اعلان ضروری ہوتا ہے مگر میں چونکہ بیمار تھا اس لئے پہلے اعلان نہ کر سکا۔یہ بھی ہو سکتا تھا کہ میں اس کے متعلق مضمون لکھوا کر الفضل ” میں شائع کرا دیتا مگر بیمار کا ذہن بھی چونکہ صاف نہیں ہوتا اس لئے ہر قسم کی تجاویز بھی نہیں سوچ سکتا۔وہ بہر حال جو ہو چکا۔سو ہو چکا۔اب اس جمعہ میں میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ سب سابق ہماری جماعت کے دوست اس شوال میں بھی سات روزے رکھیں۔پہلا روزہ اس ہفتہ کی جمعرات سے شروع ہو۔پھر ہر پیر اور جمعرات کو رکھتے ہوئے سات روزے پورے کئے جائیں چونکہ یہ روزے بھی نفلی ہیں اور دعاؤں کے لئے ہیں۔اس لئے شوال کے مہینہ میں آنحضرت صلی لی یکم جو چھ روزے رکھتے تھے۔1 وہ بھی چونکہ نفلی ہیں اس لئے وہ چھ روزے بھی ان کے اندر شامل کئے جا سکتے ہیں اگر یہ روزے رکھ لئے جائیں تو سمجھ لیا جائے گا کہ آنحضرت میلی لی ایم کی جو سنت شوال میں روزے رکھنے کے متعلق ہے اس پر بھی عمل ہو گیا۔وہ روزے چھ ہیں اور اس طرح ایک ا الله سة روزہ زیادہ ہو گا۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی بار بیان کیا ہے۔یہ زمانہ جو گزر رہا ہے سخت مشکلات کا زمانہ ہے اور بہت نازک ہے۔دنیا پر بھی مصائب پر مصائب آ رہی ہیں اور ہماری جماعت بھی بوجہ اقلیت ہونے کے سخت مشکلات میں سے گزر رہی ہے اور اس واسطے ہمارے لئے دعاؤں کا موقع مل جانا خواہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے پیدا کیا گیا ہو یا نظام کی طرف سے مقرر شدہ ہو۔ایک برکت کی چیز ہے۔جس سے فائدہ اٹھا کر ہم بہت سی مشکلات سے بچ سکتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے بہت سے فضلوں کے وارث ہو سکتے ہیں۔جو مصائب بندوں کی طرف لائی جانی ہیں ان سے بچنے کے لئے اور جو فضل خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لئے مقدر ہیں ان کو حاصل کرنے کے لئے یہ روزے بہت مفید ہیں۔کیونکہ ان کی غرض یہی ہے کہ جماعت کے ނ