خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 517

* 1941 517 (30) خطبات محمود خوب دعائیں کرو کہ ہم بحیثیت جماعت خدا تعالیٰ سے اور ہمارا رب ہم سے راضی ہو جائے تشهد فرمودہ 24اکتوبر 1941ء) تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔“مسنون طریق خطبہ کھڑے ہو کر پڑھنے کا ہے مگر بوجہ اس کے کہ ابھی بیماری کی کمزوری کافی ہے میں کھڑے ہو کر خطبہ نہیں پڑھ سکتا۔ہماری شریعت کا یہ ایک احسان ہے اور اس کے کامل ہونے کی دلیل کہ اس نے ہر حالت کے انسان کے لئے ایک جواز کی صورت پیدا کر دی ہے۔نماز کھڑے ہو کر پڑھنے کا حکم ہے مگر کوئی شخص بوجہ بیماری کھڑا نہ ہو سکے تو اسے بیٹھ کر پڑھنے کی بھی اجازت ہے اور اگر کوئی بیٹھ کر نہ پڑھ سکے تو لیٹ کر ہی پڑھ لینے کی اجازت ہے۔اگر کوئی لیٹ کر بھی کروٹ نہ بدل سکے تو اسے اجازت ہے کہ دل میں ہی نماز کی عبارتیں دہرالے اور اگر کوئی بے ہوشی کی حالت میں ہو اور بیماری نے اسے بالکل مضمحل کر رکھا ہو اور حالتِ صحت میں باقاعدہ نماز پڑھنے والا ہو تو شریعت کا فیصلہ یہ ہے کہ جب بھی نماز کا وقت آئے گا اس کے نام نماز لکھ دی جائے گی۔یہ اسلام کے فضائل میں سے ایک فضیلت ہے کہ وہ ہر قسم کے حالات میں انسان کے لئے سہولتیں بہم پہنچاتا ہے۔آج میں اس امر کو بیان کرنا چاہتا ہوں کہ بوجہ بیماری اس سال کے