خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 511

1941ء 511 خطبات محمود ان سے لوگوں کے دکھ کم ہوئے۔ ہر گز نہیں بلکہ اور بڑھ گئے۔ ان سے شکایات اور تکالیف اور بھی بڑھ گئیں۔ انسان نے خد اتعالیٰ کی غلامی سے نکلنا چاہا مگر اس سے بھی بدتر غلامی میں مبتلا ہو گیا پھر انسان نے کیا کیا قوانین نکالے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کے صحابہ تک تو یہ قانون مانتے آئے ہیں کہ بعض ضرورتوں کے ماتحت ایک سے زیادہ بیویاں کرنا نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے مگر یورپ نے یہ قانون بنایا کہ ایک ہی بیوی ہونی چاہئے۔ ایک سے زیادہ حرام کاری ہے اور اس کے نتیجہ میں یورپ ہزارہا سال تک ایسی بدکاری میں مبتلا ہوا کہ جسے دور کرنا اس کے اختیار میں نہ تھا اور آج پھر یہ آوازیں آنے لگی ہیں کہ ایک سے زیادہ بیویوں کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ خدا تعالیٰ نے کیسا فطرت کے مطابق قانون بنایا تھا کہ ساری اولاد جائداد اور ترکہ کی وارث ہو مگر یورپ نے اسے چھوڑا تو دیکھو کیسی خطرناک کیپیٹلزم کی لعنت کا شکار ہوا اور کس طرح اس قانون نے جہاں ایک گروہ سرمایہ داروں کا پیدا کر دیا وہاں دوسری اولاد کو سوسائٹی کے لئے لعنت بنا دیا۔ سرمایہ چند ہاتھوں میں جمع ہو گیا۔ اگر خدا تعالیٰ کے قانون پر عمل کیا جاتا تو ایسا کبھی نہ ہو سکتا۔ فرض کرو کسی کے پاس پچاس ہزار ایکڑ زمین ہوتی اور اب تک اگر دس نسلیں بھی مان لی جائیں اس کے دو لڑکے ہوتے تو ان کو 25، 25 ہزار ایکڑ زمین مل جاتی پھر اگلی نسل میں بھی دو دو ہی لڑکے ہوتے تو % 12-% 12 ہزار ایکٹر ہو جاتی اور اسی طرح اگر ہر نسل میں دو دو ہی لڑکے فرض کئے جائیں تو تیسری نسل میں% 6۔% 6 ہزار۔ چوتھی میں قریباً 31،31 سو۔ پانچویں میں پندرہ پندرہ سو۔ چھٹی میں % 7-7- ساتویں میں قریباً -3- 3- سو۔ آٹھویں میں ڈیڑھ ڈیڑھ سو۔ نویں میں 75،75 اور دسویں میں 37 37 ایکٹر۔ اور اس طرح وہ ایک معمولی حیثیت کے زمیندار ہوتے۔ مگر یورپ نے قانون سے تمام پچاس ہزار ایکڑ بڑے لڑکے کے لئے ہی مخصوص کر کے باقی تمام اولاد کو غریب کر دیا اور اس طرح چند لوگ تو بڑے بڑے لارڈ بن گئے مگر باقی غریب رہ گئے۔ اگر اسلامی قانون پر عمل کیا جاتا تو آج کوئی لارڈ