خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 509

* 1941 509 خطبات محمود پاس پڑے ہوں اور اوپر اوڑھنے کے لئے رضائی ہو۔آپ فرماتے تھے۔ہم نے پوچھا کہ چنے تو کھانے کی چیز ہے، رضائی اوڑھنے کی، ان سے تو آرام ملتا ہے مگر یہ ہلکا ہلکا جو بخار جو تم چاہتے ہو اس کا کیا مطلب ہے۔اس نے کہا کہ اگر بخار زیادہ ہو تو اس تکلیف ہو و گی اور اگر بالکل نہ ہو تو کام سے چھٹکارا نہیں ہو سکتا۔ابھی آدمی آ جائے گا که چلو مرزا جی بلاتے ہیں۔تو غریبوں کے لئے بیماری بھی بعض اوقات رحمت ہو ہے۔ان میں اور بھی فوائد ہیں۔بیماری ان زہروں کا ازالہ کر دیتی ہے انسان کے اندر جمع ہو رہے ہوتے ہیں ورنہ ایسی حالت پیدا ہو جائے کہ انسان کھڑے کھڑے مر جائے۔اندر صفرا پیدا ہوتا ہے تو قے آ جاتی ہے، دست آنے لگتے ہیں اور اس طرح صفرا نکل جاتا ہے جو اگر اندر رہتا تو کئی بیماریاں پیدا کرتا، استسقاء ہو جاتا اور انسان مر جاتا۔ہر بیماری جو انسان کو آتی ہے وہ کیا ہے۔اگلی بیماری کا نوٹس ہے۔نزلہ نوٹس ہے سل کا۔ہلکا ہلکا بخار نوٹس ہے سل اور دق کا۔وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے گویا ایک چٹھی ہے۔خدا تعالیٰ ڈاک میں چٹھی نہیں بھیجتا بلکہ جسم کے اند رہی ایسی تبدیلی کر دیتا ہے کہ جس سے پتہ لگ جائے۔نزلہ ہونا گویا خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کارڈ ہے۔ایک مہینہ دو مہینہ کے بعد سل ہونے والی ہے۔کھانسی نوٹس ہے اس بات کا کہ سل ہونے والی ہے۔ہلکا ہلکا بخار نوٹس ہے اس امر کا کہ تپ دق ہونے والا ہے۔تو یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمتیں ہیں۔مگر انسان ان سب سے گھبرا کر ان سے باہر نکلنا چاہتا ہے۔وہ کوشش کرتا ہے کہ حکومتوں سے بھی آزاد ہو جاؤں۔حکومتیں تلواروں اور نیزوں سے کام لیتی ہیں۔اس لئے ان کا مقابلہ کرنے کے لئے انسان نے بندوق ایجاد کی پستول نکالا مگر جب حکومت کو علم ہوا تو اس نے کہا اس ایجاد کے لئے تمہارا شکریہ۔تم نے ایسا اچھا ہتھیار دریافت کیا جو پہلے نہ تھا اور اس نے اپنی فوج اور پولیس کو بندوق اور پستولوں سے مسلح کر دیا۔پھر انسان نے کہا حکومتیں ظالم ہیں اور ان کے مقابلہ کے لئے اس نے توپ ایجاد کی اور کہا کہ