خطبات محمود (جلد 22) — Page 490
خطبات محمود 490 * 1941 پھر موسیٰ علیہ السلام آئے اُس وقت کیا کیا طعنے تھے جو فرعون 15 نے انہیں دیئے۔اور کس طرح اس نے آپ کو اپنی طرف سے ذلیل کیا۔قرآن میں لکھا ہے فرعون نے انہیں طعنے دیئے اور کہا کہ تو ہماری روٹی کھاتا رہا، ہمارے دیئے ہوئے کپڑے پہنتا رہا، ہم نے تجھے پالا پوسا اور بڑا کیا اب تو ہمارا ہی نمک خوار ہو کر ہمارے سامنے باتیں کرتا ہے۔کتنی تذلیل ہے جو دنیا کی نگاہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ہوئی کہ جس کے گھر وہ پلے تھے، جس کے مکان میں وہ رہے تھے، جس کے دیئے ہوئے کپڑوں کو وہ پہنتے رہے تھے اور جس کی دی ہوئی روٹی وہ کھاتے رہے تھے وہی انہیں کہتا ہے کہ کیا تجھے شرم نہیں آتی۔اب تو ہمارے سامنے ہی باتیں کرتا ہے مگر پھر خدا نے ان باتوں کو چھپایا تو نہیں بلکہ اس نے مزے لے لے کر عرش پر ان کو بیان کیا اور اپنے فرشتوں میں ان کا ذکر کیا۔کیا اس لئے کہ موسیٰ کی بے عزتی ہو یا اس لئے کہ فرعون کی گالیاں موسیٰ کی عزت کا موجب تھیں۔یقیناً خدا نے اسے عرش پر ان باتوں کو اسی لئے بیان کیا کہ فرعون کی گالیوں میں خدا تعالیٰ کے نزدیک موسیٰ کی ذلت نہیں بلکہ عزت تھی کیونکہ موسی فرعون کی بادشاہت میں نہیں رہتے تھے بلکہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں رہتے تھے۔فرعون جس قدر موسیٰ کی تذلیل کی کوشش کرتا اسی قدر موسیٰ کی عزت بڑھتی اور خدا تعالیٰ خوش ہوتا۔اسی لئے مومنوں کو حکم دیا گیا کہ وہ ان باتوں کو بار بار بیان کریں چنانچہ اب رمضان میں جب تم قرآن کریم کی تلاوت کرو گے تو اس میں بار بار یہی باتیں آئیں گی کہ فرعون نے موسی کو یوں گالیاں دیں اور یوں بُرا بھلا کہا۔اسی طرح تم نمازوں میں ان آیات کو بار بار پڑھو گے مگر اس لئے نہیں کہ موسیٰ کی بے عزتی ہو بلکہ اس لئے کہ موسیٰ کی عزت بڑھے کیونکہ دشمنوں کی گالیاں گو دنیا کی نگاہ میں ذلت کا موجب ہوں مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک عزت کا موجب ہوتی ہیں۔پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئے۔ان کی کتاب انجیل کو پڑھنے والے جانتے ہیں کہ یہودیوں نے ان کے منہ پر تھوکا۔16 اُن کے سر پر کانٹوں کا تاج بنا کر