خطبات محمود (جلد 22) — Page 491
* 1941 491 خطبات محمود رکھا۔17 انہیں گالیاں دیں۔انہیں مارا پیٹا گیا 18 اور پھر صلیب پر انہیں لڑکا دیا۔میرا خطبہ تو کہاں تک شائع ہو گا۔انجیل وہ کتاب ہے جو ہر سال دس کروڑ کی تعداد میں شائع ہوتی ہے۔اب اللہ ہی جانتا ہے کہ اس وقت تک کتنے ارب دفعہ یہ واقعات دنیا کے سامنے بیان ہو چکے ہیں کہ لوگوں نے حضرت عیسی کے منہ پر کے سر پر کانٹوں کا تاج بنا کر رکھا، ان کے جسم میں برچھیاں ماریں یہاں تک کہ الله سة تھوکا، ان تکلیفیں خدا تعالیٰ نے یہودیوں کے اس جھوٹے الزام کو بھی نہیں چھپایا کہ عیسی کی ماں (نعوذ بالله) فاسقہ ، فاجرہ اور بدکار تھی اور حضرت عیسی کی ولادت ناجائز تھی۔پھر رسول کریم صلی ال ایم آئے تو آپ کو بھی دشمنوں نے بڑی بڑی دیں۔ایک دفعہ ایک کافر نے آپ کے گلے میں پڑکا ڈال کر اس زور کے ساتھ کھینچا کہ آپ کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور آپ کا دم رکنے لگا۔19 ایک دفعہ آپ سجدہ میں تھے کہ کفار نے آپ پر غلاظت ڈال دی 20 مگر ان واقعات کو نہ رسول کریم صلی یکم چھپایا اور نہ مسلمانوں نے بلکہ انہوں نے ان واقعات کو بیان کیا اور بار بار بیان کیا یہاں تک کہ بخاری اور مسلم اور حدیث کی دوسری کتابوں میں مسلمانوں نے ان باتوں کو نقل کیا اور لوگ ہمیشہ انہیں پڑھتے رہتے ہیں۔پھر قرآن نے بھی ان باتوں چھپایا نہیں بلکہ وہ بھی بار بار کہتا ہے کہ یہ کافر تجھے ساحر کہتے ہیں، تجھے کذاب کہتے ہیں، تجھے متفنی کہتے ہیں، تجھے مفتری کہتے ہیں۔کیا دشمنوں کی یہ ذلیل حرکات زیادہ ہیں یا وہ واقعات زیادہ سخت ہیں جو میرے ساتھ پیش آئے۔میں نے تو صرف بیان کیا تھا کہ ایک موقع پر ان سپاہیوں نے مجھے کہا کہ “انہاں دا کی اعتبار ہے جو چاہن گل بنا لین ” یعنی ان کا کیا اعتبار ہے جو جی چاہے گا ہمارے خلاف بات بنا لیں گے مگر قرآن تو اس سے بہت زیادہ سخت کفار کے الفاظ نقل کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ان کفار نے کہا کہ رسول کریم صلی ا لم نعوذ بالله ) کذاب ہیں، مفتری ہیں، فریبی ہیں، ساحر ہیں۔اب کیا یہ عجیب بات نہیں کہ اس ایک فقر ہتک ہو گئی مگر محمد صلی الله علم کو مفتری اور کذاب کہے جانے سے ان کی ہتک نہ ہوئی۔الله ނ تو ہماری