خطبات محمود (جلد 22) — Page 470
1941ء 470 خطبات محمود تو جو شخص پڑھا ہوا ہوتا ہے وہ تو ایک دفعہ خط کو پڑھ کر رکھ دیتا ہے مگر ان پڑھ جب تک پانچ سات دفعہ وہ خط لوگوں سے پڑھا نہ لے اسے تسلی نہیں ہوتی۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ اگر بیٹی یا بھائی یا بیوی یا خاوند یا باپ یا ماں کی خیریت کا خط آنے پر پڑھوں اور ان پڑھوں میں یہ فرق نظر آتا ہے کہ پڑھا ہوا شخص تو خط کو ایک دفعہ پڑھ کر مطمئن ہو جاتا ہے مگر ان پڑھ جب تک چار پانچ متفرق لوگوں سے خط نہ بھالے اسے تسلی نہیں ہوتی کیونکہ وہ خیال کرتا ہے کہ شاید ایک شخص سے کوئی بات رہ گئی ہو۔ اس لئے جب وہ ایک سے خط کا مضمون سن لیتا ہے تو دوسرے کے پڑھا پاس جاتا ہے اور دوسرے کے بعد تیسرے اور پھر چوتھے اور پانچویں کے پاس۔ تو اسی طرح اگر لوگوں کو خدا تعالیٰ سے بھی سچی محبت ہوتی تو قرآن کریم کے مطالب کو سمجھنے کے لئے ان پڑھ پڑھے ہوئے لوگوں سے زیادہ بیقرار ہوتے اور وہ کئی کئی بار لوگوں سے اس کو سن چکے ہوتے۔ دوست نہ ہو ہو اور وہ یہ ایک نہایت ہی معرفت کا نکتہ ہے جس میں انسانی فطرت کا گہرا مطالعہ نظر آتا ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارا اپنا تجربہ بھی یہی ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ان پڑھ اپنی جیب میں ایسے خط رکھ لیتے ہیں اور جہاں انہیں اپنا کوئی ایسا دوست نظر آتا ہے جو پڑھا لکھا ہو یا کسی اور شخص کو دیکھتے ہیں جو گو ان کا مگر نرم طبیعت کا ہو سمجھتے ہوں کہ یہ خط پڑھنے ھنے سے انکار نہیں کرے گا تو اس کے سامنے وہ خط پیش کر کے کہتے ہیں کہ ذرا اسے پڑھ کر سنا دیں۔ پھر اس پر بھی ان کی تسلی نہیں ہوتی اور وہ اوروں سے پڑھواتے ہیں۔ یہاں تک کہ آٹھ دس متفرق آدمیوں سے خطوط سن سن کر ان کا مضمون انہیں حفظ ہو جاتا ہے۔ تو ان پڑھ ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ایسا شخص قرآن پڑھنے یا سننے سے آزاد ہے۔ بلکہ ان پڑھوں کو زیادہ فکر سے قرآن کریم کو بار بار سننا چاہئے کیونکہ ممکن ہے وہ ایک سے قرآن کریم سنیں اور وہ بعض آیات کا انہیں غلط مطلب بتا دے۔ جس طرح ان پڑھ پہلے ایک شخص سے خط پڑھواتا ہے تو اس سے اس کی تسلی نہیں ہوتی