خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 469

* 1941 469 خطبات محمود وہ کم سے کم درس قرآن کی جو قضاء عمری ہوتی ہے اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔مسلمانوں میں عام رواج ہے کہ وہ سارا سال نمازیں نہیں پڑھتے یا کم سے کم باقاعدگی اور التزام کے ساتھ نہیں پڑھتے مگر رمضان کے آخری جمعہ میں شامل ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قضاء عمری ہو گئی۔اس دن وہ کچھ زائد نفل پڑھ لیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ ان نمازوں کے بدلہ میں جو اُن سے چھوٹ گئی تھیں وہ نفل کافی ہو گئے ہیں۔اسی طرح جو غافل اور سست لوگ سارا مہینہ درس میں شامل نہیں ہوتے وہ قرآن کریم کی آخری ایک دو سورتوں کے اس درس میں جو مجھ سے دلوایا جاتا ہے اور آخری دعا میں شامل ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ درس کی قضائے عمری و گئی۔گو نہ نمازوں کی قضائے عمری ہوتی ہے اور نہ درس کی۔بہر حال ایک ایسا شخص جسے اس بات کی اہلیت نہیں کہ وہ ذاتی طور پر قرآن کریم کے مطالب کو سمجھ سکے اسے اگر سارے سال میں چند دن ایسے میسر آجائیں جن میں اسے تمام قرآن کریم کا ترجمہ اور تفسیر سننے کا موقع مل جائے اور پھر بھی وہ اس میں حصہ نہ لے تو اس زیادہ بدبخت اور کون ہو ر کون ہو سکتا ہے۔یوں انسان محبت کے بڑے بڑے دعوے کیا کرتا ہے لیکن سوال صرف دعووں کا نہیں بلکہ عمل کا ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص قرآن کریم سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے اپنے عمل سے اس محبت کا ثبوت بھی دینا چاہئے۔مگر عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ محبت کے صرف زبانی دعووں پر اکتفا کی جاتی ہے اور عملی رنگ میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جاتا۔حضرت خلیفہ اول کی مثال مجھے ہمیشہ یاد رہتی ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ تم نے قرآن پڑھا ہے تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم ان پڑھ ہیں ہمیں قرآن پڑھنا نہیں آتا۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ یہ دلیل میری سمجھ میں کبھی نہیں آتی کہ ان پڑھ ہونے کی وجہ سے ایک شخص قرآن کریم کے سمجھنے سے کس طرح بری الذمہ ہو سکتا ہے۔آپ فرماتے تھے دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب کسی کے پاس اپنے کسی عزیز کا خط آتا ہے سے۔