خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 465 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 465

1941ء 465 خطبات محمود صد سے خیالات جو اسے دنیا کے تمام بادشاہ مل کر بھی پورا ہونے سے نہیں روک سکتے تھے۔ چنانچہ دیکھ لو محمد صلی الیم اسلام کے بادشاہ تھے اور آپ وفات پا گئے مگر کیا آپ کی وفات کے بعد اسلام کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائید جاتی رہی؟ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے رسول تھے مگر کیا آپ کی وفات کے بعد احمدیت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائید نہیں رہی؟ اسی طرح بے شک ہم فوت ہو جائیں مگر وہ دعائیں جو ہمارے دل سے نکلتی ہیں، وہ آہیں جو ہمارے سینہ سے بلند ہوتی ہیں اور وہ ہمارے دماغ میں اٹھتے ہیں وہ اتنی بڑی تلواریں، اتنی بڑی رائفلیں اور اتنی بڑی تو ہیں ہیں کہ دنیا کی کوئی تلواریں، دنیا کی کوئی رائفلیں اور دنیا کی کوئی تو پیں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ انہیں سوچنا چاہئے تھا کہ کیا ہم نے ان تلواروں اور بندوقوں مقابلہ کرنا تھا کہ وہ رائفلوں سے مسلح ہو کر سات گھنٹہ تک ہمارے مکان پر کھڑے رہے۔ گویا ہم مجرم اور ڈاکو تھے جن کے لئے وہ اکٹھے ہوئے تھے اور گویا خلیل احمد کے لئے ہم سب نے ان سے لڑائی شروع کر دینی تھی۔ خلیل احمد تو ایک بچہ ہے اگر میرے سارے بچوں کو بھی وہ پکڑ کر لے جائیں تو ہم میں سے کوئی شخص ان پر ہاتھ نہیں اٹھائے گا کیونکہ ہمیں خدا نے ہاتھ اٹھانے کا حکم نہیں دیا۔ اسی طرح اگر یہ واقعات جاری رہے تو تو ممکن ہے کل کو وہ مجھے بھی پکڑ لیں مگر اس صورت میں بھی وہ ہم میں سے کسی کو اپنے مقابلہ میں اٹھتے ہوئے نہیں دیکھیں گے کیونکہ اس معاملہ میں خدا نے ہمارے ہاتھ باندھ رکھے ہیں اور جس معاملہ میں خدا مومن کے ہاتھ کو باندھ لے اس میں وہ ہیجڑا بن جاتا ہے۔ ہمیں خدا نے کہا ہے کہ تم اپنے ہاتھ بند رکھو ہمیں خدا نے یہ کہا ہے کہ تم حکومت کی اطاعت کرو۔1 پس اس معاملہ میں ہم ہمیشہ اپنے خدا کے حکم کے ماتحت چلیں گے اور کسی قسم کی قانون شکنی کا ارتکاب نہیں کریں گے۔ بھلا وہ لوگ جنہوں نے افغانستان میں پتھروں کی بوچھاڑ کے آگے اپنے سینے تان دیئے تھے اور اُف نہ کی وہ کانگریس کے ان لوگوں کی طرح ہو سکتے ہیں