خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 464

* 1941 464 خطبات محمود سب جماعت ایسے موقع پر ان لوگوں کا ساتھ دے جن سے انصاف کی امید ہو تو یقینا وہ حیرت انگیز نتیجہ پیدا کر سکتی ہے۔اسی طرح اور بھی کئی قسم کے ذرائع ہیں جن سے کام لے کر جنگ کے دوران بھی اور جنگ کے بعد بھی ہم ان لوگوں کو سزا دے سکتے ہیں جو انصاف کے قیام میں روک ہوں۔پس تم ان باتوں کو مجھ پر چھوڑ دو بلکہ مجھ پر بھی نہیں خدا پر چھوڑ دو کیونکہ وہی ہمیں ہدایت دیتا ہے۔اور وہی ایسی تدابیر بتاتا ہے جن سے بغیر اس کے کہ ہم قانون شکنی کریں اپنی شکایات کا ازالہ کرا سکتے ہیں اس دن بعض اور واقعات بھی ہوئے ہیں۔مثلاً ایک سپاہی نے زنانہ میں گھنے کی کوشش کی۔اگر اسی جگہ کسی اور کے ساتھ اس قسم کا واقعہ ہوتا اور اس کے ساتھ اس قسم کی عقیدت رکھنے والے لوگ نہ بھی ہوتے جس قسم کی عقیدت رکھنے والے لوگ ہماری جماعت میں شامل ہیں بلکہ اگر کسی معمولی جاٹ کے ساتھ ہی یہ واقعہ ہوتا تو سپاہیوں کے سر پھوڑ دیئے جاتے مگر پولیس والے سات گھنٹہ تک اس دن میرے مکان پر رائفلیں لے کر کھڑے رہے۔جس کے معنے ہیں کہ انہوں نے مجھے باغی سمجھا اور خیال کیا کہ خلیل کی گرفتاری پر ہم پڑیں گے حالانکہ ہم اصول کے ایسے پابند ہیں کہ خلیل احمد کی گرفتاری تو کیا میری گرفتاری کے لئے اگر وہ آئیں تو اس وقت بھی ہماری جماعت میں سے کوئی شخص ان سے نہیں لڑے گا۔ہم تو جانتے ہیں ہمیں خدا نے تلوار دی ہی نہیں۔پس ہمارا کسی سے لڑنا حماقت ہے اگر خدا نے ہمیں تلوار دی ہوتی تو تلوار سے لڑنا ہمارے لئے جائز بھی ہوتا مگر ہمیں تو خدا نے نہ تلوار دی ہے اور نہ رائفل۔پس ہم ان ہتھیاروں سے کس طرح لڑ سکتے ہیں اور اگر ہم میں سے کوئی لڑے تو یقینا وہ احمق ہو گا کیونکہ اس نے دنیا کو بھی اپنا دشمن بنا لیا اور خدا کو بھی۔ہمارے پاس جو ہتھیار ہے وہ ہماری دعائیں ہیں جو ہماری زبان سے نکلتی اور خدا تعالیٰ کے عرش تک پہنچ جاتی ہیں۔فرض کرو وہ سپاہی اس وقت رائفل چلا بھی دیتے اور گولی میرے دل پر آ لگتی تو گو میں اس گولی کو نہیں روک سکتا تھا مگر اس گولی کے لگتے وقت جو دعا میری زبان سے