خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 452

* 1941 452 خطبات محمود سنتے اس علم کے کہ کیا واقعہ ہوا ہے اور ہم پر کیا گزری ہے تشریف لے آئے ہیں۔خیر انہیں تمام واقعات بتائے گئے۔انہوں نے کہا۔ڈیفنس آف انڈیا رولز کے ماتحت پولیس بغیر وارنٹ دکھائے گرفتار کر سکتی ہے۔ڈپٹی کمشنر صاحب کہنے لگے کہ اختیارات انسپکٹر پولیس یا سب انسپکٹر پولیس کو حاصل ہیں ہر ایک کو حاصل نہیں۔اس پر مسٹر سلیٹر نے بتایا کہ انسپکٹر پولیس بیمار تھا اور تھانیدار دورہ پر تھا۔اس وقت انچارج ایک ہیڈ کانسٹیبل ہی ہے۔اس لئے اسے اختیار حاصل ہے۔پھر وہ واقعات رہے اور انہوں نے اس پر افسوس کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ کیا آپ کے نزدیک یہ کافی نہیں ہو گا کہ میں انسپکٹر کو کہوں اور وہ ان لوگوں کے متعلق مناسب کارروائی کرے۔میں نے انہیں کہا کہ میں تو اس کے متعلق گورنر صاحب کو بھی تار دے چکا ہوں۔اس لئے ان کے فیصلہ کا مجھے انتظار کرنا پڑے گا۔اسی دوران میں پولیس کے بعض نقائص کو بھی انہوں نے تسلیم کیا اور جب انہیں بتایا گیا کہ وہ بغیر تلاشی دیئے اندر آگئے تھے تو انہوں نے کہا کہ یہ واقع میں خلاف قانون حرکت ہے۔اور انہیں اندر نہیں آنا چاہئے تھا۔مگر انہوں نے کہا کہ میں مجسٹریٹ ہوں اور صرف اتنا کر سکتا ہوں کہ جب کیس میرے سامنے آئے تو اس کا فیصلہ کر دوں۔پولیس کی کارروائی میں دخل نہیں دے سکتا۔البتہ لڑکے کی ضمانت ابھی لے لیتا ہوں۔ڈی۔سی صاحب نے کہا۔میں اس بارہ میں تجربہ کار ہوں۔آپ بات نہ کریں کیونکہ اس طرح آپ خود الزام کے نیچے آجائیں گے۔پولیس نے ابھی تک آپ کے پاس اس کے متعلق کوئی رپورٹ نہیں کی اور قاعدہ یہ ہے کہ پہلے پولیس رپورٹ کرے اور پھر اس پر کسی قسم کا ایکشن لیا جائے۔انہوں نے کہا بہت اچھا۔میں انچارج کو بلا لیتا ہوں ان کے ساتھ نائب تحصیلدار تھا۔انہوں نے اسے بھیجا کہ جا کر تھانیدار انچارج کو بلا لاؤ۔اس پر وہی شخص آیا جو بے وردی تھا۔مسٹر سلیٹر نے اس سے پوچھا کہ کیا تم انچارج ہو ؟ اس نے کہا کہ میں تو وردی میں نہیں۔میں کس طرح انچارج ہو سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا۔اچھا تو پھر کسی وردی والے کو بلاؤ۔