خطبات محمود (جلد 22) — Page 446
* 1941 446 خطبات محمود مجھے بتایا جائے تا کہ اگر کسی قسم کی اس میں غلطی ہو تو اس کو دور کر دیا جائے۔میرے اس کہنے کی وجہ یہ تھی کہ نیچے جو واقعات درد صاحب کو پیش آئے تھے وہ میں نے نہیں دیکھے تھے اور میرا فرض تھا کہ ان واقعات کے بیان کرنے میں دوسروں کو صفائی کا موقع دوں اور اگر کوئی خلاف واقعہ بات درج ہو گئی ہو تو اس کی تصحیح کر دوں۔پھر بعد میں مجھے ایک اور بات کی نسبت خیال آیا کہ اس کا لکھنا بھی تار میں ضروری تھا اس لئے میں دوسری دفعہ پھر نیچے اترا اور میں نے درد صاحب کو اس واقعہ کو لکھنے کی بھی ہدایت کی اور ساتھ ہی پھر انہیں کہہ دیا کہ یہ واقعہ بھی ان کو سنا دینا۔اس وقت تک بھی پولیس برابر ہمارے مکان کے نچلے۔حص پر قبضہ جمائے بیٹھی رہی۔اتفاق کی بات ہے کہ اس دن ہمارے اکثر آدمی باہر کام پر گئے ہوئے تھے۔عزیزم مرزا مظفر احمد صاحب جو ڈلہوزی میں ہمارے ہاں مہمان آئے ہوئے تھے وہ بھی مرزا ناصر احمد کو ملنے کے لئے ان کی کوٹھی پر گئے ہوئے تھے۔خیر کچھ دیر کے بعد مجھے خیال آیا کہ ہمیں تو قانون کی واقفیت نہیں۔مرزا مظفر احمد اور مرزا ناصر احمد کو بلوا لیا جائے چنانچہ میں پھر نیچے اترا اور ایک شخص سے کہا کہ درد صاحب سے جا کر کہ فوری طور پر مرزا مظفر احمد اور مرزا ناصر احمد کو بلوا لیا جائے۔اس وقت مجھے پھر معلوم ہوا کہ ابھی تک بھی پولیس مکان پر قابض تھی۔خیر اس شخص نے مجھے بتایا کہ درد صاحب پہلے ہی ایک آدمی ان کی طرف بھجوا چکے ہیں۔چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد مرزا مظفر احمد اور مرزا ناصر احمد دونوں پہنچ گئے اور انہوں نے بتایا کہ پیچھے آرمڈ پولیس رائفلیں لے کر چلی آ رہی ہے۔درد صاحب نے مرزا عبد الحق صاحب پلیڈر کی طرف بھی آدمی بھیجوا دیا اور وہ بھی تھوڑی دیر کے بعد آ گئے اس وقت بھی پولیس کمرہ پر اور برآمدہ پر قابض تھی مجھے اس وقت خیال گزرا کہ پولیس والوں نے ضرور تھانہ میں کوئی رقعہ بھیجا ہے اور اس کا یہ نتیجہ ہے کہ آرمڈ پولیس