خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 445

* 1941 445 خطبات محمود مگر میں نے کہا کہ میں اسے نہیں کھول سکتا۔خلیل احمد سے جب یہ بات میں نے سنی تو میں نے کہا تم نے بہت اچھا کیا جو پیکٹ اپنے ہاتھ سے نہیں کھولا۔میں سمجھتا ہوں اس کے ہاتھ سے پیکٹ کھلوانے کا منشاء یہ تھا کہ وہ شرارتا اس طرح اپنے کانشنس (CONSCIENCE) کو یہ تسلی دینا چاہتے تھے کہ انہوں نے خلیل کے ہاتھ سے یہ پیکٹ لیا ہے۔خیر وہ بات کر کے ہٹا تو اسی وقت درد صاحب نے سیڑھیوں پر سے آواز دی اور میرے جانے پر انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے مجھ سے وہ پیکٹ مانگا تھا مگر میں نے دینے سے انکار کر دیا اور ان سے کہا کہ تم مجھے وہ نون بتاؤ جس کے ماتحت تم مجھ سے یہ پیکٹ لینا چاہتے ہو۔پھر میں نے ان آپ کا نام لے کر کہا کہ مجھے خلیفة المسیح کی طرف سے یہ پیکٹ ایک بڑے افسر کو بھجوانے کے لئے ملا ہے اس لئے میں یہ پیکٹ تمہیں نہیں دے سکتا۔اس پر انہوں نے وہ پیکٹ مجھ سے چھین کر باہر پھینک دیا اور ایک سپاہی اسے لے کر بھاگ گیا میں نے پھر جلدی میں ان کی پوری بات نہ سنی اور میں سمجھ گیا کہ یہ ہم یہ ہم سے شرارت کی گئی ہے چنانچہ میں نے اوپر آکر گورنر صاحب کو ایک تار لکھا جس میں اہم واقعات جو اس وقت تک ہوئے تھے لکھ دیئے۔یہ تار لے کر میں پھر سیڑھیوں میں آیا تو اس وقت درد صاحب واپس جا چکے تھے میں نیچے اتر کر بیٹھک میں آیا تو میں نے دیکھا کہ ہماری کوچ اور کرسیوں پر پولیس والے اپنی لاتیں دراز کر کے یوں بیٹھے ہیں کہ گویا ان کا گھر ہے۔میں جھٹ دروازہ بند کر کے برآمدہ کی طرف سے دفتر کے کمرہ میں آیا تو میں نے دیکھا کہ برآمدہ میں بھی پولیس والے کھڑے ہیں۔خیر میں نے درد صاحب کو تار دیا اور کہا کہ یہ ابھی گورنر صاحب کو بھجوا دیا جائے پھر میں گورنر صاحب کو ایک مفصل چٹھی لکھنے بیٹھ گیا۔اس عرصہ میں دو دفعہ مجھے پھر نیچے جانا پڑا۔ایک دفعہ تو میں درد صاحب کو یہ کہنے کے لئے گیا کہ آپ اس تار کا مضمون پولیس کے سپاہیوں کو بھی سنا دیں اور ان کہ اس میں کوئی غلط بات تو بیان نہیں کی گئی اور اگر کسی واقعہ کا وہ انکار ހނ پوچھ ہیں تو