خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 442

* 1941 442 خطبات محمود پہنچتی ہے۔بدھ کے دن ہمارا آدمی ڈاک لے کر آیا اور میں ڈاک پڑھنے بیٹھ گیا۔آجکل طبیعت کی خرابی کی وجہ سے اور اس سے پہلے تفسیر القرآن کے کام میں مشغول ہونے کی وجہ سے ساری ڈاک میں خود نہیں پڑھتا بلکہ لفافے دیکھ کر خطوط جن کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ ضروری مضامین پر مشتمل ہوں گے یا ایسے خطوط جو غیر احمدیوں کی طرف سے آئیں یا ایسے خطوط جو میرے عزیزوں کی طرف سے آئیں یا ایسے خطوط جو جماعتوں کی طرف سے آئیں اور جن کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ سلسلہ کے نظام کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں چھانٹ کر رکھ لیتا ہوں اور باقی تمام ڈاک دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں بھجوا دیتا ہوں۔پھر دفتر والے ان خطوط کا خلاصہ لکھ کر میرے سامنے پیش کرتے ہیں یا اگر اہم خطوط ہوں تو انہیں میرے سامنے علیحدہ طور پر پیش کر کے مجھ سے جواب حاصل کرتے ہیں۔اُس دن بھی میں نے ڈاک چھانٹی اور اس قسم کے خطوط علیحدہ کر لئے۔میں ان خطوط کو پڑھ رہا تھا۔بارہ بجے کا وقت تھا کہ میرا لڑکا خلیل احمد جس کی عمر اس وقت پونے سترہ سال ہے۔میرے پاس آیا اس کے ہاتھ میں ایک پیکٹ تھا جو بند تھا۔وہ پیکٹ گول تھا اس کے باہر ایک کاغذ لپٹا ہوا تھا اور اس کاغذ پر اس کا پتہ لکھا ہوا تھا۔خلیل احمد نے وہ پیکٹ مجھے دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ پیکٹ کسی نے میرے نام بھجوایا ہے اور گورنمنٹ کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔میں نے وہ پیکٹ اس کے ہاتھ سے لے لیا اور چونکہ وہ بند تھا اس لئے طبعاً مجھے خیال پیدا ہوا کہ کیونکر معلوم ہوا کہ یہ پیکٹ گورنمنٹ کے خلاف ہے چنانچہ میں نے اس سے کہا کہ یہ پیکٹ تو بند ہے۔تمہیں کیونکر معلوم ہوا کہ اس میں کوئی ایسے کاغذات ہیں جو گورنمنٹ کے خلاف ہیں۔اس نے کہا کہ اس پیکٹ کا خول کچھ ڈھیلا سا ہے۔میں نے بغیر اوپر کا گور پھاڑنے کے اندر سے کاغذات نکال کر دیکھے تو معلوم ہوا کہ اس میں گورنمنٹ کے خلاف باتیں لکھی ہوئی ہیں اس پر میں نے بھی دیکھا تو واقع میں گور (Cover) کچھ ڈھیلا سا تھا۔پھر تجربہ کے طور پر میں نے بھی بغیر گور بھاڑنے کے اس میں سے