خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 435

خطبات محمود 435 * 1941 دھوکا دے سکتا ہے کہ تمہاری بیوی اور بچے نہیں۔تم ایسا کبھی نہیں سمجھو گے اور اگر کوئی تمہیں اس فریب میں مبتلا کرنا چاہے تو تم اسے دھوکا باز اور بد نیت سمجھو گے۔اسی طرح جو لوگ عشق کی آنکھ سے دیکھتے ہیں وہ صداقت کا مشاہدہ کر لیتے لیتے اور حقیقت تک پہنچ جاتے ہیں مگر جو لوگ محض عقل سے کام لیتے ہیں وہ ہمیشہ قیاس آرائیاں کرتے ہیں اور قیاس کرنے والے ٹھوکر کھا جایا کرتے ہیں۔پس یہ وہ لوگ ہیں جن کے نقش قدم پر جماعت کے دوستوں کو چلنے کی لوشش کرنی چاہئے۔کہنے والے کہیں گے کہ یہ شرک کی تعلیم دی جاتی ہے، جنون کی تعلیم دی جاتی ہے، یہ پاگل پن کی تعلیم دی جاتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یاگل وہی ہیں جنہوں نے اس رستہ کو نہیں پایا اور اس شخص سے زیادہ عقلمند کوئی جس نے عشق کے ذریعہ خدا اور اس کے رسول کو پالیا اور جس نے محبت میں محو ہو کر اپنے آپ کو ان کے ساتھ وابستہ کر دیا۔اب اسے خدا سے اور خدا کو اس سے چیز جدا نہیں کر سکتی کیونکہ عشق کی گرمی ان دونوں کو آپس میں اس طرح ملا دیتی ہے جس طرح ویلڈنگ کیا جاتا اور دو چیزوں کو جوڑ کر آپس میں بالکل پیوست دیا جاتا ہے مگر وہ جسے محض فلسفیانہ ایمان حاصل ہوتا ہے اس کا خدا سے ایسا ہی جوڑ ہوتا ہے جیسے قلعی کا ٹانکہ ہوتا ہے ذرا گرمی لگے تو ٹوٹ جاتا ہے۔مگر جب ویلڈنگ ہو جاتا ہے تو ایسا ہی ہو جاتا ہے جیسے کسی چیز کا جزو ہو۔پس اپنے اندر عشق پیدا کرو اور وہ راہ اختیار کرو جو ان لوگوں نے اختیار کی پیشتر اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جو صحابی باقی ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں۔بے شک ابتدائی تعلق رکھنے والے لوگوں میں سے منشی ظفر احمد صاحب آخری صحابی تھے مگر ابھی بعض اور پرانے لوگ موجود ہیں گو اتنے پرانے نہیں جتنے منشی ظفر احمد صاحب تھے۔چنانچہ کوٹلہ میں میر عنایت علی صاحب ابھی زندہ ہیں جنہوں نے ساتویں نمبر پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی مگر پھر بھی یہ جماعت