خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 425

خطبات محمود فَكُلُّ جَمْرٍ لَنَا قُلُوبٌ اس کے معنی یہ ہیں کہ :۔ وَا أَسَفَا عَلَى فِرَاقِ قَوْمٍ 425 وَكُلُّ مَاءٍ لَنَا عُيُونَ 4 هُمُ الْمَصَابِيحُ وَالْحُصُونَ 1941ء ہائے افسوس ان لوگوں کی جدائی پر جو دنیا کے لئے سورج کا کام دے رہے تھے اور جو دنیا کے لئے قلعوں کا رنگ رکھتے تھے۔ لوگ ان سے نور حاصل کرتے تھے اور انہی کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے عذابوں اور مصیبتوں سے دنیا کو نجات ملتی تھی۔ وَالْمُدْنُ وَالْمُزْنُ وَالرَّوَاسِي وَالْخَيْرُ وَالْأَمْنُ وَالسُّكُونَ وہ شہر تھے جن سے تمام دنیا آباد تھی۔ وہ بادل تھے جو سوکھی ہوئی کھیتیوں کو ہرا کر دیتے تھے، وہ پہاڑ تھے جن سے دنیا کا استحکام تھا۔ اسی طرح وہ تمام بھلائیوں کے جامع تھے اور دنیا ان سے امن اور سکون حاصل کر رہی تھی لَمْ تَتَغَيَّرُ لَنَا اللَّيَالِي حَتَّى تَوَفَّاهُمُ الْمَنُونُ ہمارے لئے زمانہ تبدیل نہیں ہوا۔ مشکلات کے باوجود ہمیں چین ملا، آرام حاصل ہوا اور دنیا کے دکھوں اور تکلیفوں نے ہمیں گھبراہٹ میں نہ ڈالا مگر جب وہ فوت ہو گئے تو ہمارے سکھ بھی تکلیفیں بن گئے اور ہمارے آرام بھی دکھ بن گئے فَكُلُّ جَمْرٍ لَنَا قُلُوبٌ وَكُلُّ مَاءٍ لَنَا عُيُونَ پس اب ہمیں کسی آگ کی ضرورت نہیں کیونکہ ہمارے دل خود انگارا بنے ہوئے ہیں اور ہمیں کسی اور پانی کی ضرورت نہیں کیونکہ ہماری آنکھیں خود بارش برسا رہی ہیں۔ یہ ایک نہایت ہی عجیب نقشہ ایک صالح بزرگ کی وفات کا ہے۔ اور کہنے والا کہتا ہے یہ اشعار اس مجذوب نے کہے اور پھر وہ وہاں سے چلا گیا جب دوسرے دن اس کھنڈر کو دیکھا گیا تو وہ خالی تھا اور مجذوب اس ملک کو ہی چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ تو یہ لوگ جنہیں خدا تعالیٰ کے انبیاء کی صحبت حاصل ہوتی ہے۔ یہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے انبیاء کا قرب رکھتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے نبیوں اور اس کے قائم کردہ خلفاء کے بعد