خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 424

خطبات محمود 424 * 1941 ہوتی ہے تو برآمدہ وغیرہ بھی گیلا ہو جاتا ہے۔اسی طرح خدا کا نبی ہی اس کا نبی تھا مگر اس سے تعلق رکھنے والے، اس کی بیویاں، اس کے بچے، اس کی لڑکیاں، اس کے دوست اور اس کے رشتہ دار سب ان برکات سے کچھ نہ کچھ حصہ لے گئے جو اس پر نازل ہوئی تھیں۔کیونکہ یہ خدا کی سنت اور اس کا طریق ہے کہ جس طرح بیویاں، بچے اور رشتہ دار برکات سے حصہ لیتے ہیں اسی طرح وہ گہرے دوست بھی برکات سے حصہ لیتے ہیں جو نبی کے ساتھ اپنے آپ کو پیوست کر دیتے ہیں۔یہ لوگ خدا کی طرف سے ایک حصن حصین ہوتے ہیں اور دنیا ان کی وجہ سے بہت سی بلاؤں اور آفات سے محفوظ رہتی ہے۔مجھے جو شعر انتہائی پسند ہیں ان میں سے شعر وہ بھی ہیں جو حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے وقت ایک مجذوب نے کہے۔تاریخوں میں آتا ہے کہ حضرت جنید بغدادی جب وفات پا گئے تو ان کے جنازہ کے ساتھ بہت بڑا ہجوم تھا اور لاکھوں لوگ اس میں شریک ہوئے۔اس وقت بغداد کے قریب ہی ایک مجذوب رہتا تھا۔بعض لوگ اسے۔پاگل اور بعض ولی اللہ سمجھتے۔وہ بغداد کے پاس ہی ایک کھنڈر میں رہتا تھا۔کسی سے کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا اور نہ لوگوں سے بات چیت کرتا مگر لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ جب جنازہ اٹھایا گیا تو وہ بھی ساتھ ساتھ تھا۔راوی کہتا ہے کہ میں نے دیکھا وہ نماز جنازہ میں شریک ہوا، قبر تک ساتھ گیا اور جب حضرت جنید بغدادی کو لوگ دفن کرنے لگے تو اُس وقت بھی وہ اسی جگہ تھا۔جب لوگ حضرت جنید بغدادی کو گئے دفن کر چکے تو اُس نے آپ کی قبر پر کھڑے ہو کر یہ چار شعر کہے۔وَا أَسَفًا عَلَى فِرَاقِ قَوْمٍ هُمُ الْمَصَابِيحُ وَالْحُصُوْنَ وَالْمُدْنُ وَالْمُزْنُ وَالرَّوَاسِي وَالْخَيْرُ وَالْحَمْنُ وَالسُّكُونَ لَمْ تَتَغَيَّرُ لَنَا اللَّيَالِي حَتَّى تَوَفَّهُمُ الْمَنُونَ