خطبات محمود (جلد 22) — Page 417
1941ء 417 خطبات محمود 66 حضرت مسیح موعود کی کتب کے مطالعہ سے میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ آپ نے ہرگز نبوت کا دعویٰ نہیں کیا ۔۔۔ آپ کا دعویٰ محدثیت کا ہے گو آپ کو محدثین میں خاص اور امتیازی درجہ دو حاصل ہے۔ 5 اب کوئی بتائے کہ مصری صاحب کے دعوے کہاں چلے گئے۔ وہ تو کہا کرتے تھے کہ “میں جماعت کا باقاعدہ فرد ہوں۔ جماعت سے میں الگ نہیں ہو سکتا” میں خلافت کا قائل ہوں ” “حق کی قوت میرے ساتھ ہے۔”6 پھر اگر واقع میں حق کی قوت ان کے ساتھ تھی اور اگر واقع میں وہ ہماری جماعت کے عقائد کو درست تسلیم کرتے اور خلافت پر ایمان رکھتے تھے تو وجہ کیا ہے کہ پہلے وہ کچھ کہا کرتے تھے اور اب وہ کچھ کہنے لگ گئے ہیں۔ آج سے چند سال پہلے تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت پر ایمان رکھتے تھے، خلافت کو درست تسلیم کرتے تھے، ہماری جماعت کے عقائد کو عقائد صحیحہ مانتے تھے مگر چند سال کے بعد ہی انہیں نظر آنے لگ گیا کہ یہ سب کچھ جھوٹ اور باطل تھا اور انہوں نے کوشش کی کہ جماعت کو توڑ دیں مگر جماعت کو انہوں نے کیا توڑنا تھا خود ہی عقائد کے لحاظ سے وہ ٹوٹ گئے۔ تو اللہ اور رسول اور اس کی جماعتیں کبھی ٹوٹ نہیں سکتیں۔ ہاں جو لوگ ان سے کھیل کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں وہ بے شک ٹوٹ جاتے ہیں۔ پہلوں کے واقعات ہم نے قرآن میں پڑھے تھے اور اس زمانہ کے واقعات ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لئے ہیں۔ آج تک میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا جو سلسلہ اور اس کے نظام پر حملہ کرنے کے لئے کھڑا ہوا ہو اور پھر خدا نے اس کی طاقت کو توڑ نہ دیا ہو۔ تھوڑے ہی دن ہوئے ایک شخص نے مجھے لکھا کہ پنجاب کے ایک بہت بڑے آدمی کے ایک قریب ترین رشتے دار نے اس سے ذکر کیا کہ جب احرار اپنے فتنہ میں ناکامی کا منہ دیکھ چکے تو پیغامیوں کا ایک بہت بڑا آدمی ان کو ملا (سب نام مجھے معلوم ہیں مگر مصلحتاً شائع نہیں کرتا) اور کہا کہ آپ نے