خطبات محمود (جلد 22) — Page 41
$1941 41 خطبات محمود دس آیات لکھ دیں۔یہ بات سن کر مولوی محمد حسین صاحب کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور بڑے غصہ سے کہا کہ تم جاہل آدمی ہو تمہیں کس نے کہا ہے کہ علمی باتوں میں دخل دو۔میں تین ماہ تک کوشش کر کے نور الدین کو حدیث کی طرف لایا تھا یہ پھر قرآن کی طرف لے جا رہا ہے۔یہ بات مولوی محمد حسین صاحب نے غصہ میں کہہ دی اور یہ خیال نہ کیا کہ اس سے ان کی کمزوری کا اظہار ہوتا میاں نظام دین تھے تو بیشک ان پڑھ مگر جب یہ بات سنی تو ان کی آنکھیں کھل گئیں۔تھوڑی دیر خاموش رہے اور پھر یہ کہہ کر مولوی صاحب! “اچھا جدھر قرآن وو ہے۔اُدھر ہم۔” اٹھ کر چل پڑے اور قادیان میں آکر بیعت کر لی۔ان کا خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق محبت کا تھا۔وہ یہ محسوس کرتے تھے کہ میں ہر چیز کو چھوڑ سکتا ہوں مگر خدا تعالیٰ کے کلام کو نہیں چھوڑ سکتا۔اس لئے جب دیکھا کہ مولوی محمد حسین قرآن کریم کو چھوڑ رہے ہیں تو کسی اور دلیل کی ضرورت ہی نہ رہی۔اور جب مومن کی یہ حالت ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اسے محبت کا ایسا تعلق ہو جائے تو پھر اسے کوئی ابتلاء پیش نہیں آ سکتا وہ یہی کہتا ہے کہ اچھا جدھر قرآن اُدھر ہی ہم۔دوسرا کلمہ اس کی زبان سے نہیں نکلتا اور جو شخص خدا تعالیٰ کا قرب چاہتا ہے اسے یہی مقام حاصل کرنا چاہئے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ مضبوطی سے بندھا ہوا ہونا چاہئے۔یہ نہیں کہ تعلق کمزور ہو اور ذرا سی ٹھوکر لگنے پر یہ ادھر اور وہ ادھر جا پڑے۔یہی اصل اطمینان کا مقام ہوتا ہے۔اور اسی سے خدا تعالیٰ کے وہ فضل نازل ہوتے ہیں جن کے بغیر نجات حاصل نہیں ہو سکتی۔جب خدا تعالیٰ کے ساتھ ایسا مضبوط تعلق قائم ہو جائے تو ایسے انسان کو گو دنیا بھی چھوڑ دے، لوگ کتنا اسے بد نام کریں مگر خدا تعالیٰ اسے نہیں چھوڑتا۔جس دن حضرت مسیح ناصری علیہ السلام صلیب دیا گیا اس دن کون کہہ سکتا تھا کہ ان کے بعد بھی کوئی ان کا نام لے گا حتی کہ حواری بھی ان کو چھوڑ گئے۔مگر ان کا خدا تعالیٰ سے مضبوط تعلق تھا۔پس خدا تعالیٰ نے ان کو نہ چھوڑا اور آخر ان کا نام عزت سے دنیا میں قائم ہو گیا۔