خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 386

* 1941 387 خطبات محمود تم کسی جگہ جاؤ تو لوگ تمہارے آنے پر ہنسیں مگر جب واپس آؤ تو تمہارے ہمجولی اور ملنے والے روئیں۔اس لئے نہیں کہ انہیں تمہارے ساتھ جسمانی محبت ہے بلکہ اس۔لئے کہ یہ ہمارے لئے نیک نمونہ تھا اور اس کی وجہ سے ہمیں نیکیوں کی توفیق ملتی تھی اور اب یہ اور اب یہ ہمارے پاس سے جا رہا ہے۔پس جہاں جاؤ اپنا نیک نمونہ دکھا کر وہاں کی جماعت میں ایسی بیداری پیدا کرو کہ جب تم وہاں سے آنے لگو تو اس شہر یا قصبہ کے لوگ سمجھیں کہ ہمارے اندر سے روحانیت کھنچی چلی جا رہی ہے۔اگر تم ان چھٹیوں میں یہ نمونہ دکھا کر واپس آؤ تو اللہ تعالیٰ تمہیں توفیق دے گا کہ آئندہ بھی قادیان کی رہائش سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکو۔بورڈنگ تحریک جدید میں بچوں کو نماز کی باقاعدگی سکھائی جاتی ہے اور نماز ایک ایسی نیکی ہے کہ جو ایک بھی چھوڑے وہ مسلمان نہیں رہ سکتا اور اگر ان بچوں میں سے باہر جا کر کوئی ایک بھی نماز چھوڑے تو گویا وہ تحریک جدید کی ہتک کرنے والا ہو گا۔جس کا وقار قائم رکھنا سے ہر ایک کا فرض ہے۔پس یہاں جو بھی نیک عادات تم کو ڈالی جاتی ہیں ان پر باہر جا کر اچھی طرح قائم رہو۔جو بورڈر ہیں وہ بھی اور جو نہیں وہ بھی ہر بات میں باہر جا کر نیک نمونہ دکھائیں۔نمازیں باقاعدگی سے ادا کرو اور ہو سکے تو تہجد بھی پڑھو اور اپنے ارد گرد نیک اثرات چھوڑو۔تم میں۔ہے۔پھر یاد رکھو کہ اس وقت کی مسلمانوں کی تباہی میں چار باتوں کا بڑا دخل (1) معاملات کی خرابی (2) سچ نہ بولنا (3) ہمدردی کا نہ پایا جانا اور ایک دوسرے سے تعاون نہ ہونا۔(4) قوت عملیہ کی کمزوری۔چار امور مسلمانوں کی تباہی کا بڑا موجب ہیں اور تحریک جدید کی غرض انہی نقائص کو دور کرنا ہے۔آج صبح ہی جو مٹی ڈالی گئی ہے وہ بھی اسی لئے ہے کہ