خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 383

1941ء 384 خطبات محمود درد محسوس نہیں کرتا۔ دیکھو آدمی کو نزلہ تو ہوتا ہے ناک میں مگر کس طرح سارا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔ کھانسی سینہ میں ہوتی ہے مگر کیا لاتوں اور پیروں کو اس سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ جسم کے کسی حصہ پر پھوڑا ہو تو کیا باقی جسم آرام میں ہوتا ہے۔ اگر مسلمان اس چیز کو پیش نظر رکھتے اور رسول کریم صلی الم نے جو مثال دی تھی اسے صحیح تسلیم کرتے اور جس طرح جسم کے کسی حصہ پر پھوڑا نکلنے سے تمام جسم بے چین ہوتا ہے یا نزلہ ہونے کی حالت میں سار اجسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔ مسلمان سارے عالم اسلامی کی تکلیف کو اپنی تکلیف محسوس کرتے تو مسلمانوں کو آج یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا مگر میں کہتا ہوں۔ چھوڑ دو پرانے قصوں کو، چھوڑ دو ان لوگوں کو جنہوں نے مرکز اسلام سے منہ موڑ لیا اور رسول کریم صلی الله یم صلی اللہ سلم کی محبت دل نکال دی۔ تم جو آنحضرت صلی الیم نیا تعلق پیدا کر رہے پیدا کر رہے ہو جو خدا تعالیٰ نیا رشتہ جوڑ رہے ہو تم سوچو کہ کیا تمہارے دلوں کی یہی کیفیت ہے جو رسول کریم صلی الی یوم نے فرمائی تھی۔ تم میں سے کتنے ہیں جن کے دل اپنے بھائی کی تکلیف پر اسی طرح دکھ محسوس کرتے ہیں جس طرح جسم کے ایک حصہ پر پھوڑا ہونے سے تمام جسم محسوس کرتا ہے۔ سے سے سے م الله س آج میں ساری جماعت کو مخاطب نہیں کرتا بلکہ صرف طالب علموں کو مخاطب کرتا ہوں جو چھٹیاں منانے والے ہیں اور ان سے کہتا ہوں کہ تم قوم کی آئندہ اساس بننے والے ہو۔ تم وہ بنیادی پتھر ہو جس پر قوم کی نئی عمارت بننے والی ہے۔ ہمارے مکانات کتنے وسیع ہیں مگر باوجود اس کے کہ کئی بچوں کی شادیاں ہو چکی ہیں اور وہ علیحدہ مکانوں میں چلے گئے ہیں اور اپنے گھر بنا لئے ہیں پھر بھی بعض اوقات صحن میں سب کے سونے کے لئے جگہ نہیں ہوتی۔ اور یہ بچے جو اب چھوٹے ہیں جب ان کی شادیاں ہو جائیں گی تو پھر تو شاید بیٹھنے کی بھی جگہ نہ ہو گی۔ یہی حالت قوموں کی ہوتی ہے۔ آنے والی نسلیں اپنے لئے اور گھر بناتی ہیں۔ وہ پہلوں کے ایمان پر ہی اکتفا نہیں کرتیں بلکہ ایمان کی نئی عمارت تعمیر کرتی ہیں۔ اگر تو ان کے