خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 375

1941ء 376 خطبات محمود واپس جانا ہوتا ہے۔ ایسے طالب علموں میں سے کچھ تو اس لئے خوش ہوتے ہیں کہ پڑھائی سے فراغت ہو جائے گی اور خوب کھیلیں گے اور کچھ اس لئے خوش ہوتے ہیں کہ جب دوسرے بچے باہر جائیں گے تو ہمارے ماں باپ بھی ہمیں کہیں باہر بھیج دیں گے چونکہ چھٹیوں کے موقع پر طالب علموں کے لئے ریلوے کنسیشن وغیرہ ملتے ہیں اس لئے ایسے بچوں کو بھی ان کے ماں باپ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے پاس کہیں باہر بھیج دیتے ہیں تا چھٹیوں میں سیر کر آئیں۔ پھر کچھ طالب علم ایسے تے ہیں جنہوں نے نہ تو پڑھائی سے غافل ہونا ہوتا ہے اور نہ انہیں باہر جانے کی کوئی امید ہوتی ہے۔ ۔ مگر وہ چھٹی کے لفظ سے ہی خوش ہوتے ہیں جیسے عید کے دن سینکڑوں وہ لوگ بھی خوش ہوتے ہیں جن کے لئے بظاہر خوشی کی کوئی وجہ نہیں ہوتی۔ وہ غریب ہوتے ہیں اس لئے نہ تو ان کے ہاں کوئی اچھا کھانا پک سکتا ہے اور نہ انہیں نئے کپڑے مل سکتے ہیں۔ وہ اسی لئے خوش ہوتے ہیں کہ ان کے ہمسائے خوش نظر آتے ہیں۔ اسی طرح کئی طالب علم اس لئے خوش ہوتے ہیں کہ ان کے ہوتے ساتھی خوش ہیں۔ بہر حال یہ طالب علموں کے لئے خوشی کے ایام ہوتے ہیں۔ اگر وہ غور کریں تو انہیں معلوم ہو کہ خوشی کیا چیز ہے۔ حقیقی خوشی ہی کامیابی کا موجب ہو سکتی ہے۔ مصنوعی خوشیاں بسا اوقات دوسرے کے دل میں رقت پیدا کر دیتی ہیں۔ کہتے ہیں کسی بیوہ عورت کا ایک ہی بچہ تھا جو دودھ پیتا تھا۔ مگر ایسی عمر کو پہنچ چکا تھا جب بچہ کچھ کچھ بولنے لگتا اور حرکت کرنے اور چلنے پھرنے لگتا ہے اور اس کا دودھ چھڑانے لگتے ہیں۔ اس کی ماں بیمار تھی اور رات کو مر گئی۔ جب صبح دروازہ نہ کھلا تو ہمسائے آئے اور جب دروازہ کھلا تو دیکھا کہ ماں مری پڑی ہے اور بچہ کبھی اس کے پستان منہ میں ڈالتا ہے۔ ۔ کبھی اس کے ماتھے پر پر پیار سے تھپڑ مارتا ہے اور جب وہ اس پر بھی نہیں بولتی تو کھکھلا کر ہنسنے لگتا ہے۔ وہ سمجھتا تھا کہ میری ماں میرے ساتھ مذاق کرتی ہے۔ اس لئے نہیں بولتی اور میرے ہنسنے سے وہ بھی ہنس پڑے گی۔ لوگ اگر صرف اس کی ماں کو مردہ دیکھتے تو شاید ان کو اتنا رونا