خطبات محمود (جلد 22) — Page 371
* 1941 خطبات محمود مضمون 372 کئی نئی باتیں بیان کر دیتا ہے اور ان کا جواب ضروری ہوتا ہے۔اس لئے قاعدہ یہ ہے کہ جو پہلی تقریر کرے اسے آخری تقریر کا بھی حق ہوتا ہے۔پس میں ان کے ن کو “ الفضل ” میں شائع کرانے کو تیار ہوں بشر طیکہ وہ میرا جواب الجواب بھی پیغام صلح ” میں شائع کرائیں۔یا اگر وہ پسند کریں تو یہ سب یعنی میرا خطبہ، ان کا جواب اور میرا جواب الجواب کتابی صورت میں شائع کر دیا جائے۔جس پر خرچ دونوں کا آدھا آدھا ہو اور کتابیں بھی آدھی آدھی لے لیں۔اس سے بھی بڑھ کر میں ان کے لئے ایک اور آسانی کر دیتا ہوں۔پہلے تو میں نے کہا تھا کہ وہ اگر میری اس تجویز کو مانیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی دونوں کی تحریریں اکٹھی شائع کر دی جائیں تو میں ان کی اس تجویز کو مان لوں گا مگر ان پر اتمام حجت کے لئے میں یہ بھی مان لیتا ہوں کہ چلو میں اس کو بھی چھوڑ دیتا ہوں بشر طیکہ وہ میری اس تجویز کو مان لیں یعنی میرا جواب الجواب بھی ساتھ شائع ہو تو گو ہمارا ان سے یہ مطالبہ تو رہے گا کہ ان کو کیا حق ہے کہ ہم جو کہیں اسے تو وہ نہ مانیں اور خود جو بات کہیں اس کا ماننا ہمارے لئے ضروری ہو۔مگر ان کی اس تجویز کو ماننے کے لئے میں پہلے اپنی پہلی تجویز منوانے پر اصرار نہ کروں گا بلکہ ایک اور بھی آسانی ان کے لئے پیدا کر دیتا ہوں اور وہ یہ کہ اگر وہ میرا جواب الجواب شائع کرنے پر تیار ہوں تو خرچ کے دو حصے ہم دے دیں گے اور صرف ایک حصہ وہ دیں اور دو حصے کتب ہم لے لیں اور ایک حصہ وہ۔اور میری طرف سے اتنی رعایتوں کے باوجود اگر وہ میری بات کو ماننے کے لئے تیار نہ ہوں تو ہم سوائے اس کے کیا کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں سچ کو سچ سمجھنے کی توفیق دے۔اور ان کا وہ غصہ دور ہو جو ان کے لئے صداقت کے سمجھنے میں روک ہو رہا ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ مولوی صاحب تحمل کے ساتھ غور کریں گے اور ان تجاویز پر عمل کر کے لوگوں کے لئے صداقت کے معلوم کرنے میں آسانی پیدا کریں گے۔میں اپنی تجاویز کا خلاصہ پھر ایک دفعہ پیش کر دیتا ہوں۔پہلی تجویز تو وہی ہے