خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 372

خطبات محمود علیہ ' 373 * 1941 جو میں 18 جولائی 1940ء کے خطبہ جمعہ میں پیش کر چکا ہوں۔یعنی حضرت مسیح موعود الصلوۃ و السلام کے زمانہ کی تحریرات سے میں ان کے عقائد نکال دوں اور اسی زمانہ کی میری تحریرات سے وہ میرے عقائد نکال دیں اور ان کو اکٹھا شائع کر دیا جائے۔اگر وہ اسے منظور کر لیں تو ان کو حق ہو گا کہ اپنی پیش کردہ تجویز کے ماننے کا مجھ سے مطالبہ کریں۔اور میں اسے مان لوں گا۔دوسری بات میں نے یہ کہی ہے کہ اگر وہ میری اس تجویز کو نہ بھی مانیں تب بھی میں ان کی تجویز کو مان لیتا ہوں مگر ضروری شرط یہ ہو گی کہ وہ میرا جواب الجواب بھی ساتھ شائع کرنا منظور کر لیں۔اگر بصورت کتاب شائع کرنا ان کو پسند ہو تو خرچ کے دو حصے ہم دیں گے اور ایک وہ دے دیں اسی طرح دو حصے کتابیں ہم لے لیں گے اور ایک نصہ وہ لیں گے۔ان کتابوں کو خواہ فروخت کر دیا جائے یا بانٹ دیا جائے جس طرح کسی کی مرضی ہو کرے۔ان کے مضمون کے باقی حصہ کا جواب میں اِنْشَاءَ اللہ پھر دوں گا لیکن جیسا کہ میں بتا چکا ہوں۔ان کو یہ غلط فہمی ہے کہ میں ان کے خیالات اپنی جماعت تک پہنچنے میں روک بنتا ہوں۔شاید وہ میرے خطبات پڑھتے ہی نہیں یا اگر پڑھتے ہیں تو بھول جاتے ہیں۔انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ میں نے اس سے کسی کو کبھی نہیں روکا۔جماعت کے سینکڑوں لوگ ان کی کتابوں کو پڑھتے ہیں۔خود میری لائبریری میں یہ کتابیں ہیں اور لوگ پڑھنے کے لئے لے جاتے ہیں اور میں نے کبھی کسی کو منع نہیں کیا کہ یہ کتابیں نہ پڑھو۔ہماری دوسری لائبریریوں میں بھی ان کی کتابیں ہیں اور انہیں بھی لوگ پڑھتے ہیں۔لیکن اگر ان کا یہ وہم کسی طرح بھی دور نہیں ہوتا تو میں اس کے لئے بھی تیار ہوں کہ وہ قادیان میں آ جائیں۔میں یہاں ان کے تین لیکچر اپنی جماعت میں کرا دوں گا اور ان لیکچروں میں وہ دل کھول کر اپنے عقائد اور دلائل بیان کر لیں اور اس بات کی تسلی کر لیں کہ ان کے خیالات اچھی طرح ہماری جماعت تک پہنچ گئے ہیں اور اگر وہ کسی طرح بھی ماننے کو تیار نہ ہوں اور اپنی ہی بات دہراتے چلے جائیں تو اس کا علاج میرے پاس کوئی نہیں۔اس کا علاج