خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 37

1941ء 37 خطبات محمود ہوتا۔ اس لئے قلوب میں صفائی پیدا نہیں ہوتی اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس قسم کا جوڑ اور تعلق پیدا نہیں ہوتا جو ایسے بد اثرات سے انسان کو بالا کر دے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جب تک قلب، دماغ اور خیالات میں صفائی نہ ہو ذکر اذکار بھی مفید نہیں تا۔ یہ ایسی ہی بات ہوتی ہے جیسے کوئی انسان عمدہ عمدہ مرغ غن کھانے تو کھائے مگر سارا دن چار پائی پر ہی بیٹھا رہے۔ ذکر الہی اس وقت تک قرب الہی کا موجب نہیں ہو سکتا جب تک اس کے ساتھ دل و دماغ میں صفائی نہ ہو۔ محض زبان سے بعض الفاظ کہہ دینا کافی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نظر دل کی صفائی پر ہوتی ہے اس کے بغیر بسا اوقات ذکر الہی عذاب کا موجب ہو جاتا ہے جیسے پیشاب کی بوتل میں اگر کوئی عمدہ شربت ڈال لے تو وہ اسے کوئی بشاشت نہیں پہنچا سکتا یا کوئی عمدہ کھانا پاخانہ کے برتن میں ڈال لے تو وہ اسے کوئی بشاشت نہیں پہنچا سکتا یا کوئی عمدہ کھانا پاخانہ کے بر تن میں ڈال لے تو وہ کوئی طاقت نہیں پیدا کرے گا بلکہ صحت کو اور خراب کر دے گا۔ عمدہ غذا اسی وقت مفید ہو سکتی ہے جبکہ وہ برتن بھی صاف ہو جس میں وہ ڈالی جائے۔ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ فلاں شخص بڑے وظائف کیا کرتا تھا مگر مرتد ہو گیا اور یہ نہیں سوچتے کہ عمدہ سے عمدہ شربت بھی پیشاب کے برتن میں پڑ کر خراب ہو جاتا ہے جس کا دل اور دماغ صاف نہیں اسے ذکر اذکار کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔ جس طرح کہ اچھی غذا خراب بر تن میں پڑ کر خراب ہو جاتی ہے یا جیسے کسی اچھے برتن میں خراب غذا ڈال دی جائے تو وہ اچھی نہیں بن جاتی۔ یہ دونوں چیزیں ضروری ہیں یعنی اپنے دل و دماغ اور خیالات کی صفائی اور پھر ذکر الہی کی عادت۔ شاہ ولی اللہ صاحب بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں ان کی ایک پوتی بہت ذکر کیا کرتی تھیں۔ ایک دفعہ ان کے ایک بھائی شاید ان کا نام شاہ عبد الغنی تھا ان سے ملنے آئے تو دیکھا کہ وہ مصلی پر بیٹھی ہیں۔ انہوں نے کہا بہن تم مصلی پر بہت بیٹھی رہتی ہو۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ذکر الہی میں بڑی لذت آتی ہے۔ شاہ صاحب نے فرمایا کہ مجھے تو یوں نظر آتا ہے کہ تم اس میں غلو کرنے لگی ہو ایسا نہ ہو کہ