خطبات محمود (جلد 22) — Page 36
$1941 36 خطبات محمود نہیں ہوتی اور جلدی ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ سے ان کا تعلق کمزور ہوتا ہے اور ان کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کوئی شخص سر پر برتن رکھ کر جا رہا ہو۔ایسے کو اگر ذرا سی ٹھوکر لگے تو برتن بھی نیچے گر جائیں گے ایسے لوگوں کا تعلق خدا تعالیٰ سے ایسا ہی ہوتا ہے۔اسی لئے وہ ذرا سی ٹھوکر کے ساتھ خدا تعالیٰ سے الگ ہو جاتے ہیں لیکن محبت ایک ایسی چیز ہے جو بندے اور خدا تعالیٰ کو باندھ دیتی ہے اور جو چیز دوسری سے باندھ دی جائے وہ گرا نہیں کرتی۔اسے جب پھیکا بھی جائے تو وہ بندھی رہتی ہے۔تو نوافل خدا اور بندے کو اسی طرح باندھ دیتے ہیں جس طرح ایک چیز دوسری سے رسی یا زنجیر کے ساتھ باندھ دی جاتی ہے یا جس طرح ویلڈنگ کرتے ہیں۔نوافل سے خدا تعالیٰ اور بندے کے درمیان ویلڈنگ ہو جاتا ہے ہے اور ایسے انسان کو جب ٹھوکر لگے اور وہ گرے تو خدا تعالیٰ بھی ساتھ گرتا تفرقہ نہ ہو اور اگر اسے کوئی اوپر پھینکتا ہے تو خدا تعالیٰ بھی ساتھ ہی اوپر جاتا جب تک یہ ویلڈنگ نہ ہو ذرا سی ٹھوکر سے وہ ادھر جا پڑتا ہے اور یہ ادھر۔اس زمانہ میں ابتلاؤں کی جو کثرت ہے وہ اسی وجہ سے ہے کہ لوگوں نے نوافل اور ذکر اذکار کو بھلا دیا۔پس میں احباب کو خصوصیت سے نصیحت کرتا ہوں کہ نوافل اور ذکر الہی جو فرائض اور نماز باجماعت کے بعد ضروری چیزیں ہیں ان کی عادت ڈالیں تا اللہ تعالیٰ اور ان کے درمیان ایسا مضبوط رشتہ قائم ہو جائے جو ذراذرا سی ٹھوکروں سے نہ ٹوٹ سکے۔رسول کریم صلی علیم نے اپنے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم سے پہلی قوموں پر ایسے عذاب آئے ہیں کہ ان میں سے بعض آروں سے چیرے گئے مگر وہ مرتد نہیں ہوئے۔4۔الله سة عیسائیوں کی تاریخ میں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ روم کے بادشاہوں نے ان میں سے بعض کو آروں سے چروا دیا مگر انہوں نے اپنے ایمان کو نہ چھوڑا۔مگر اب ، دیکھ لو کتنی جلدی ٹھوکر لگ جاتی ہے۔یہ فلسفہ اور دہریت کا زمانہ ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت پیدا کرنے والے ذرائع کو لوگوں نے نظر اندا ز کر دیا ہے۔