خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 366

* 1941 367 خطبات محمود غور کرو جس کی تعلیم و تربیت کا یہ پھل ہے وہ کاذب ہو سکتا ہے۔اگر وہ کاذب ہے تو پھر صادق کا دنیا میں کیا نشان ہے۔” 3 گویا وہ میرے اس زمانہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا معیار قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میرا ایسے پاکیزہ مطالب بیان کرنا ثبوت ہے اس بات کا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سچے ہیں اوراس کے یہ معنی ہیں کہ وہ مانتے ہیں کہ میرا وہ زمانہ اچھا تھا اور خیالات پاکیزہ تھے۔پس ایسے مبارک زمانہ کی تحریروں کا شائع ہونا ایسا عمدہ کام تھا کہ جو کئی لوگوں کی ہدایت کاموجب بن جاتا مگر افسوس که مولوی صاحب نے میری تجویز کو نہ مانا اور اسے رد کر دیا۔لیکن دوسری طرف وہ اپنی ایک تجویز پیش کر کے بڑی تعلی سے کہتے ہیں کہ میں اسے کبھی نہیں مانوں گا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ ان کے خیالات ہماری جماعت کے دوستوں تک پہنچیں۔حالانکہ جیسا کہ میں بتاچکا ہوں میں نے خود یہ تجویز پیش کی تھی اور ان کے خیالات کی اشاعت پر قریباً پانچ سو روپیہ اپنے پاس سے خرچ کرنے کو تیار تھا۔اور ظاہر ہے کہ یہ روپیہ خرچ کر کے جو کتاب چھپتی اسے ہم کہاں لے جاتے۔آخر جماعت کے دوستوں کے پاس ہی وہ فروخت ہوتی یا بانٹ دی جاتی بلکہ ہم تو پہلے بھی اپنے پاس سے روپیہ خرچ کر کے ان کے خیالات کی اشاعت کرتے رہے ہیں۔مولوی محمد اسماعیل صاحب مرحوم نے جو رسالہ تبدیلی عقیدہ مولوی محمد علی صاحب شائع کیا ہے اس میں ساری کی ساری عبارتیں انہی کی ہیں۔تو ان کے خیالات پھیلنے میں میں کبھی روک نہیں ہوا بلکہ میں نے ہمیشہ ان کے خیالات جماعت تک پہنچائے ہیں مگر مگر وہ کہتے ہیں کہ ان کے مضمون کو ”الفضل“ میں شائع کرا دینے کی تجویز کو میں نہیں مانوں گا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ ان کے خیالات جماعت تک پہنچیں۔ان کے اس خیال کے غلط ہونے کی ایک دوسری مثال قریب کے زمانہ کی ہے۔مولوی ابو العطاء صاحب نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ :۔