خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 365

* 1941 366 خطبات محمود وہ خود بھی مبارک مانتے ہیں اور ان کا خیال یہی ہے کہ وہ زمانہ بہت اچھا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود ان تحریروں کو پڑھتے اور ان کی نگرانی کرتے تھے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول گو اس زمانہ میں خلیفہ نہ تھے مگر ان تحریروں کو آپ بھی پڑھتے تھے او ر نگرانی کرتے تھے۔مولوی عبد الکریم صاحب بھی زندہ تھے۔آپ کی وفات 1905ء میں ہوئی ہے۔اور رسالہ ریویو 1902ء میں جاری ہوا ہے اس لئے ایک عرصہ تک آپ کی نظر سے بھی وہ تحریریں گزرتی رہیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور وہ بزرگ جن کی تعریف حضور علیہ السلام نے کی ہے سب اس زمانہ میں زندہ تھے۔ان کی نگرانی میں وہ ایام گزرے ہیں۔اس زمانہ میں مولوی محمد علی صاحب جو کچھ لکھتے رہے ہیں ان کے متعلق ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے منشاء کے مطابق تھا۔خود خدا تعالیٰ نے اس کے متعلق گواہی دی ہے۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے کہ “آپ بھی صالح تھے اور نیک ارادہ رکھتے تھے آؤ ہمارے ساتھ بیٹھ جاؤ۔2 اور اس الہام کے خواہ کچھ بھی معنی کئے جائیں۔بہر حال اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ وہ زمانہ مولوی محمد علی صاحب کے لئے بھی اچھا او رمبارک زمانہ تھا اور بعد کا دونوں فریق میں مختلف فیہ ہے اور پھر میرا بھی وہ زمانہ اچھا تھا اور خود مولوی محمد علی صاحب کی شہادت اس کے متعلق موجود ہے۔چنانچہ میرے ایک مضمون پر انہوں نے لکھا تھا کہ :۔“ اس رسالہ کے ایڈیٹر مرزا بشیر الدین محمود احمد حضرت اقدس کے صاحبزادے ہیں اور پہلے نمبر میں چودہ صفحوں کا ایک انٹروڈکشن ان کی قلم سے لکھا ہوا ہے۔جماعت تو اس مضمون کو پڑھے گی مگر میں اس مضمون کو مخالفین سلسلہ کے سامنے بطور ایک بین دلیل کے پیش کرتاہوں جو اس سلسلہ کی صداقت پر گواہ ہے۔وہ سیاہ دل لوگ جو حضرت مرزا صاحب کو مفتری کہتے ہیں اس بات کا جواب دیں کہ اگر یہ افتراء ہے تو یہ سچا جوش اس بچہ کے دل میں کہاں سے آیا۔