خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 361

* 1941 362 خطبات محمود کے دل میں ہے۔ممنہ سے جناب میاں صاحب جس قدر بلند دعاوی چاہیں کریں مگر ان کا طرزِ عمل یہ بتا رہا ہے کہ ان کا دل ہمارے دلائل کی مضبوطی کے خوف سے کانپ رہا ہے۔اور ان کے نزدیک اس کے سوائے اپنی جماعت کی حفاظت کا اور کوئی طریق نہیں کہ وہ ہمارے دلائل کو ان کے سامنے نہ آنے دیں۔”1 پیشتر اس کے کہ میں ان کی اس تجویز کا جواب دوں۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب کو جو عادت صدر انجمن احمدیہ قادیان میں حکومت کرنے کی پڑ گئی تھی وہ اب تک قائم ہے۔وہ صرف یہی سمجھتے ہیں کہ جو بات وہ کہہ دیں وہ ضرور پوری ہونی چاہئے اور اگر وہ پوری نہیں ہوتی تو دنیا میں جو دوسرے لوگ ہیں ان سب پر حجت تمام ہو گئی۔دوسروں کی بات پر کان دھرنا یا اس کا جواب دینا ان کو بالکل بھول جاتا ہے۔وہ آج یہ تجویز پیش کرتے ہیں کہ میں اگر ان کے اس جواب کو اپنے اخبار “ الفضل ” میں شائع کرا دوں تو وہ ان تمام دلائل کو جو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کے متعلق دیئے ہیں۔لفظ بلفظ قارئین پیغام" کے سامنے لانے کو تیار ہیں اور اپنی طرف سے یہ تجویز پیش کرنے کے بعد وہ بڑے دھڑلے کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ “جناب میاں صاحب اس تجویز کو کبھی منظور نہ کریں گے ”۔اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ میں نہیں چاہتا کہ جماعت ان کے دلائل اور خیالات سے آگاہ ہو۔کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ ہماری جماعت ان کے دلائل سے متاثر ہو کر پھسل جائے گی لیکن اپنی طرف سے یہ تجویز پیش کرتے وقت وہ اس بات کو بھول گئے ہیں کہ آج سے ایک سال قبل یعنی 19 جولائی 1940ء کو میں نے ایک خطبہ پڑھا تھا جو 24 جولائی 1940ء کے ”الفضل“ میں شائع : ہو چکا ہے۔اس میں میں نے یہ کہا تھا کہ :۔66 صحیح عقائد وہی ہو سکتے ہیں جن کا ہم حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ و السلام کے زمانہ میں علی الاعلان اظہار کیا کرتے تھے