خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 357

1941ء 358 خطبات محمود کوشش کی جائے دور رہیں۔ بجائے اس کے کہ قانون کو ہاتھ میں لے کر خدا تعالیٰ سے زیادہ با غیرت بننے کی کوشش کریں۔ جب خدا تعالیٰ کا حکم ہو کہ خاموش رہو تو بولنے کے یہ معنے ہیں کہ گویا یہ شخص بہت غیرت والا ہے اور خدا تعالیٰ غیرت والا نہیں۔ اور کیا کوئی عقلمند ایک منٹ کے لئے بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ نَعُوذُ بِاللهِ خدا تعالیٰ بے غیرت ہے اور یہ باغیرت ہیں؟ پس اپنے نفسوں کو قابو میں رکھو اور دعائیں کرتے رہو کہ خدا تعالیٰ خود ان باتوں کا بدلہ لے۔ ہماری دعاؤں میں بھی کبھی سزا کا پہلو مد نظر نہیں ہونا چاہئے۔ مجھے تو یاد نہیں کہ میں نے بچپن سے لے کر اب تک کبھی کسی شدید سے شدید دشمن کے لئے بھی بغیر شرط کے بد دعا کی ہو اور شرطی طور پر بھی بد دعا ساری عمر میں دو تین بار ہی کی ہو گی اور وہ بھی کسی خاص موقع پر جب سلسلہ کا بہت نقصان ہوتا نظر آرہا ہو۔ ایسے وقت میں بھی میں نے یہ نہیں کہا کہ اے خد ادشمن کو تباہ کر دے بلکہ یہی کہا کہ اگر اس کی اصلاح ممکن نہیں اور سلسلہ کو اس کی زندگی سے نقصان ہے تو اسے ہمارے رستہ سے ہٹا دے۔ ایسی بد دعا بھی دو تین مواقع کے سوا میں نے کبھی نہیں کی اور بد دعا تو کبھی بھی نہیں کی حتی کہ میں نے تو مولوی ثناء اللہ صاحب کے لئے بھی کبھی بد دعا نہیں کی اور اگر کبھی ان کے متعلق جذبہ بھڑکا ہے تو یہی دعا کی ہے کہ الہی اگر یہ احمدی ہو جائے تو یہ تیرا بہت بڑا نشان ہو گا لیکن اگر ایسا مقدر نہیں تو پھر تو اس کے شر سے اپنے سلسلہ کو بچا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ایک دفعہ ایک شخص نے آپ کو لکھا کہ میری بہن پر جن آتے ہیں وہ یہ یہ طاقتیں رکھتے ہیں۔ ایسی کرامات دکھاتے ہیں۔ آپ نے جواب میں اسے لکھا جو گھر میں ہمیں بھی سنایا کہ ان جنوں سے کہو کہ اس غریب عورت پر کیوں آتے ہیں۔ کیوں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی ثناء اللہ صاحب امر تسری کے سر پر چڑھ کر انہیں قادیان لا کر احمدی نہیں کرا دیتے۔ اس جواب سے ایک رنگ میں یہ بتانا مقصود تھا کہ یہ خیال