خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 356

* 1941 357 خطبات محمود فرض کرو کسی مومن نے ایک کافر کو مار دیا اور اس وجہ سے ایک مومن کو بھی موت کی سزا ہو گئی۔فائدہ کیا ہوا۔قرآن کریم نے ایک مومن کو دس کافروں کے برابر قرار دیا ہے۔10 اس لئے گویا ایک کافر کو مارنے سے دس مومن ضائع ہوئے۔دس گنا نقصان ہے۔مگر خدا تعالیٰ نے گزشتہ جنگ عظیم میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق ہوئی، کروڑوں جانیں تلف کر دیں۔یہ جنگ بھی خدا تعالیٰ کا نشان تھا۔پھر انفلوئنزا پھوٹا۔یہ بھی خدا تعالیٰ کا نشان تھا۔اس میں کروڑوں جانیں ضائع ہوئیں۔کابل میں ہیضہ پھوٹا جس سے 85 ہزار جانیں ضائع ہو گئیں اور اللہ تعالیٰ نے ایک سید عبد اللطیف صاحب شہید کے بدلہ میں وہاں 85 ہزار آدمی مار دیئے۔افغانستان کی کل آبادی 70، 80 لاکھ ہے ان میں سے 85 ہزار کے مر جانے کے یہ معنی ہیں کہ گویا ہر سو میں سے ایک مر گیا اور اس قدر تباہی کے عوض کسی کو پھانسی پر لٹکانا تو در کنار کسی کے پاؤں میں کانٹا بھی نہ چھا۔ہندوستان میں دس پندرہ سال کے اندر طاعون سے ایک کروڑ آدمی مرے۔انفلوئنزا سے سال بھر میں دو کروڑ آدمی خدا تعالیٰ نے مار دیا۔اور یہ سب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی پیشگوئیوں کے مطابق ہوا۔پھر زلزلہ آیا اور ایک منٹ کے اندر اندر کانگڑہ اور اس کے نواحی علاقہ میں ہیں ہزار آدمی مر گئے۔11 پھر اور بھی کئی زلازل آپ کی پیشگوئیوں کے مطابق آئے اور لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں۔لیکن ان سب کے بدلہ کسی ایک شخص کو بھی سزا نہ دی جا سکی۔کیونکہ یہ انتقام لینے والا خدا تھا اس لئے کسی کو کوئی گرفت نہ کر سکا۔پس میں جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ یہ ایام بہت نازک ہیں۔ہماری کامیابی اور ترقی کو دیکھ کر دشمن ذلیل باتوں پر اتر آیا ہے اور ہمیں اشتعال دلاتا ہے۔قادیان میں بھی اور باہر بھی ایسی کوشش کی جا رہی ہے اس لئے دوست اپنے جذبات پر قابو رکھیں اور جن مجالس میں ایسی باتیں ہوں وہاں سے اٹھ چلے جائیں۔بکثرت استغفار کریں اور ایسی مجالس سے جہاں اشتعال دلانے کی