خطبات محمود (جلد 22) — Page 34
خطبات محمود یاد آگئی۔ گننے کا کیا مطلب؟ 34 1941ء تو سوائے ان عبادتوں کے جو فرض ہوتی ہیں اور جن کا گننا بھی ضروری ہوتا ہے نوافل میں سے بھی بعض نوافل سنت کا رنگ رکھتے ہیں۔ ان کے سوا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام سے کوئی پوچھتا کہ فلاں ذکر کتنی بار کرنا چاہئے تو آپ فرماتے کہ جب تک طبیعت میں بشاشت پیدا ہو۔ تعداد آپ نے کبھی نہیں بتائی۔ تو یہ نوافل ہیں جو انسان کے اندر حقیقی محبت پیدا کرتے ہیں۔ عبادت کو صرف فرائض تک محدود رکھنے کے معنے تو صرف یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ آتا ہے اور میں اس کا نوکر ہوں اس سے زیادہ نہیں۔ اور نوکر و آقا کے تعلقات خواہ کیسے بھی کیوں نہ ہوں محبوب اور محب اور عاشق و معشوق کے پاکیزہ تعلقات کا مقابلہ ہرگز نہیں کر سکتے۔ محبت اور محبوب کا تعلق امن و راحت کا تعلق ہوتا ہے اور یہ تعلق اسی وقت پیدا ہو سکتا ہے جب انسان کے اندر محبت کا رنگ پیدا ہو اور وہ حدود و قیود کو نظر انداز کر دے اور ہر وقت دل میں یہ احساس رہے کہ میں نے اس تعلق میں ترقی کرنی ہے۔ یہ نہیں کہ صبح کی نماز پڑھنے کے بعد صرف یہ احساس ہو کہ اب میں نے صرف ظہر کی نماز پڑھنی ہے اور ظہر کے بعد یہ کہ عصر کی پڑھنی ہے بلکہ ہر وقت خدا تعالیٰ کی طرف دھیان رہے۔ صبح کی نماز کے بعد جب ایک دکاندار دکان کا دروازہ کھولے تو اس وقت بھی خدا تعالیٰ کی یاد دل میں ہو اور دل و زبان خدا تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کر رہے ہوں اور جب کسی کو سودا دے رہا ہو تو اس وقت بھی دل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو۔ اور جب گاہک کو سودا دے لے تو دل میں اطمینان ہو کہ میں نے اس کا حق نہیں مارا۔ مگر پھر بھی اَسْتَغْفِرُ اللہ پڑھتا رہے کہ شاید مجھ سے کوئی کمی رہ گئی ہو تو ہو تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے۔ وزن پورا دیا ہو، سودا بھی ناقص نہ ہو۔ سب کچھ ٹھیک کرنے کے بعد بھی یہ خیال ہو کہ کوئی ایسی بات مجھ سے نہ ہو گئی ہو کہ جو میرے محبوب کی ناراضگی کا موجب ہو اور اس لئے