خطبات محمود (جلد 22) — Page 325
خطبات محمود اب 326 * 1941 سوال یہ ہے کہ غیر مبائعین جن لوگوں کو مسلمان کہتے ہیں، وہ ان چار لاکھ حقیقی مسلمانوں میں شامل ہیں یا نہیں۔اگر نہیں تو پھر ہمارا اور ان کا کوئی جھگڑا ہی نہیں اور اگر ان کی مراد یہ ہے کہ وہ کروڑوں کروڑ لوگ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں سب سیفی مسلمان ہیں تو پھر حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام کے اس کلام کی تردید ہوتی ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام تو فرماتے ہیں کہ ایسے لوگ چار لاکھ کے قریب ہیں اور یہ چار لاکھ بھی وہ ہیں جو میرے ہاتھ پر مسلمان ہوئے۔اب کیا وہ مکفر یا مکذب نہیں یا جنہوں نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ جماعت احمدیہ میں شامل ہوں یا نہ ہوں، کیا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے ہاتھ پر قبول کرنے والے قرار دیئے جا سکتے ہیں؟ وہ تو ابھی مانتے ہی نہیں۔زیادہ زیادہ تم ان کے متعلق یہ کہہ سکتے ہو کہ وہ کہتے ہیں ابھی ہم نے حضرت مسیح موعود اسلام علیہ ނ وہ الصلوة و السلام کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا۔مگر کیا ایسے لوگوں کے متعلق سکتے ہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے ہیں، وہ تو ابھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے قریب بھی نہیں آئے۔کجا یہ کہ ان کے متعلق یہ کہا جائے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے ہیں۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے صاف طور پر فرما دیا ہے کہ اس وقت مسلمانوں کے دو گروہ ہیں۔ایک گروہ تو وہ ہے جو ظاہری مسلمانوں کا ہے۔دوسرا گروہ ان مسلمانوں کا ہے جو میرے ہاتھ پر حقیقی مسلمان یعنی احمدی بن گئے۔پھر آپ حد بندی کر کے اس بات کو اور زیادہ واضح کر دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اس قسم کے حقیقی مسلمان جو میرے ہاتھ پر ایمان لائے صرف چار لاکھ کے قریب ہیں۔اس طرح یہ بات اور بھی واضح ر بھی واضح ہو جاتی ہے کہ ان چار لاکھ حقیقی مسلمانوں سے احمدیہ جماعت ہی مراد ہے۔غرض اس ایک فقرہ سے ہی معلوم ہوتا