خطبات محمود (جلد 22) — Page 315
1941ء 316 خطبات محمود صد س ہیں اس بات کا کہ کوئی انسان خدا نہیں ہو سکتا۔ ایسے لوگوں پر جو خدائی کے مدعی ہوں تنگیاں بھی آتی ہیں۔ اگر وہ علیم ہوں تو کیوں یہ دفن شدہ خزانے نکال کر مالا مال نہ ہو جائیں؟ اور جب وہ عَلِیم نہیں تو خدا کس طرح ہو سکتے ہیں؟ خدا تعالیٰ کی ہزاروں صفات ہیں: وہ حَمِيد ہے، مَجِيد ہے، مُحْيِ، مُمِيت، قدوس، جَبَّارٍ، قهار ، غفار ہے لیکن جس کے اندر اِن میں سے ایک بھی صفت نہیں وہ احمق خدائی کا دعویٰ کس طرح کر سکتا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ قرآن کریم نے جو الفاظ اس امر کے بتانے کے لئے استعمال کئے ہیں کہ کوئی غیر اللہ خدا نہیں ہو سکتا۔ وہی جاہل لوگوں نے اپنی خدائی کے لئے دلائل بنا لئے ہیں۔ جیسا کہ سورۃ النجم تو شرک کے رڈ میں ہے مگر بعض احمقوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اس کی تلاوت کے وقت رسول کریم صلی العلیم نے بعض تعریفی کلمات بتوں کے بارے میں کہے تھے جن پر کفار نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر سجدہ کیا۔ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِكَ ۔ پس یہ بالکل غلط ہے کہ کوئی انسان خدا تو در کنار کسی ایک صفت میں بھی اس کا شریک بن سکتا ہے۔ یہ قرآن کریم کا معجزہ ہے کہ کوئی شخص اس کی ایک آیت کا بھی مفہوم بگاڑ کر پیش نہیں کر سکتا کیونکہ اس سے اگلا ہی فقرہ اس کے منہ پر چپیڑیں مارے گا اور یہ بھی خدا کے علیم ہونے کی ایک دلیل ہے۔ وہ چونکہ جانتا تھا کہ کہاں معنے بگاڑے جائیں گے اس لئے وہیں تردید بھی کر دی۔ ہمارے رنگ 6 میں مشہور ہے کہ بڑے بڑے خزانوں کے نگران اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے اژدہا رکھے ہیں۔ یہ تو خیر ایک تمثیلی کلام ہے مگر قرآن کریم ایک ایسا خزانہ ہے کہ اس کی اگلی اور پچھلی آیات ہر آیت کے لئے اژدہا بن جاتی ہیں اور اس لئے اس کی کسی آیت کے غلط معنے کوئی کر ہی نہیں سکتا۔ یہ ایک موتیوں کی لڑی ہے جس میں سے کوئی موتی چرایا نہیں جا سکتا کیونکہ فوراً نظر آ جائے گا کہ فلاں جگہ موتی کم ہے اور فلاں قد اور شکل کا موتی گم ہے۔ موتیوں کے ہار پروئے ہی اس طرح جاتے ہیں کہ شروع کے موتی سب سے باریک ہوتے ہیں اور درمیانی سب سے بڑا ہوتا ہے اور پہلے موتیوں کے بعد کا ہر موتی