خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 298

* 1941 299 خطبات محمود اور یہ سمجھ کر کہ اس شخص نے جھوٹ تو بنایا نہیں وہ الہام بھی شائع کر دیئے۔اس سے اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اب تو میرے الہام خلیفہ وقت نے بھی شائع کر دیئے اس لئے ان کو بہت اہمیت حاصل ہو گئی اور اس نے اپنی علیحدہ پٹڑی جمانی وع کر دی اور اس نے خود اس دوست سے جس نے مجھے یہ بات سنائی کہا کہ ایک دفعہ انہی خیالات کی وجہ سے مجھے نماز میں ہنسی آگئی۔میں نماز پڑھ رہا تھا کہ مجھے خیال آیا کہ اس طرح مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوتے ہیں۔اب مجھے بھی تائید و نصرت الہی حاصل ہو گی اور ترقیات حاصل ہوں گی۔میرا گاؤں بھی قادیان کی طرح ترقی کرے گا یہاں بھی لنگر خانہ ہو گا، انجمن قائم ہو گی، روپیہ آئے گا او رہر طرف مجھے شہرت حاصل ہو گی۔انہی خیالات میں اسے یہ یاد ہی نہ رہا کہ میں نماز میں کھڑا ہوں اور ہنسی آگئی۔یہ اس بات کی علامت تھی کہ اسے جو الہام وغیرہ ہوتے تھے وہ دراصل اس کی حرص اور لالچ کا نتیجہ تھے۔تو بعض لوگوں کو اپنے دماغی خیالات کے زیر اثر ایسے الہام بھی ہو جاتے ہیں جن کی بناء پر وہ ایسے دعوے کر دیتے ہیں اور بعض جھوٹ بولتے ہیں مگر یہ ہوتا اُسی وقت ہے جب وہ ہے، موسیٰ سلسلہ کی کامیابی کو دیکھ کر سمجھ لیتے ہیں کہ یہ ایک کامیابی کا آسان راستہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے زمانہ میں ایک ایسا شخص یہاں آیا، مہمان خانہ میں ٹھہرا، اس وقت ترقی شروع ہو چکی تھی۔اس نے بعض لوگوں سے بیان کیا کہ مجھے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوتا ہے کہ تو محمد ہے، عیسی ہے۔بعض لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام سے اس کا ذکر کیا۔وہ مسجد میں آیا تو آپ نے دریافت فرمایا کہ سنا ہے آپ کو ایسے الہام ہوتے ہیں؟ اس نے کہا ہاں جس طرح آپ کو اللہ تعالیٰ محمد، موسیٰ، عیسی اور نوح وغیرہ ناموں کے ساتھ پکارتا ہے مجھے بھی پکارتا ہے۔آپ نے فرمایا میاں یہ بھی خیال رکھو کہ شیطان جھوٹ بولا کرتا ہے خدا تعالیٰ نہیں۔وہ ہمیشہ سچ بولتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ کسی کو محمد کہتا ہے تو وہ قرآن کریم کے معارف بھی اس پر کھولتا ہے اور