خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 284

* 1941 285 خطبات محمود ایک بوڑھا شخص جس کا جسم گھل چکا ہو بعض دفعہ باتیں کرتے کرتے اس کی جان نکل جاتی ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شخص کتنا نیک تھا کہ باتیں کرتے کرتے اس کی جان نکل گئی۔حالانکہ باتیں کرتے کرتے اس کی جان اس لئے نہیں نکلی کہ وہ نیک تھا بلکہ اس لئے نکلی کہ اس کی جان پہلے ہی مری ہوئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک اندھے سے کسی نے کہا کہ سو جاؤ تو وہ کہنے لگا ہمارا سونا کیا ہے چپ ہو جانا۔یعنی سونا کس کو کہتے ہیں؟ اس کو کہ انسان آنکھیں بند کرے اور خاموش ہو جائے اب آنکھیں تو اس کی پہلے ہی بند تھیں۔اس نے کہا کہ آپ جو کہتے ہیں کہ سو جاؤ تو میں نے اور کیا کرنا خاموش ہو جاتا ہوں۔تو کسی بوڑھے کی جان اگر آرام سے نکلتی ہے تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ بڑا نیک ہوتا ہے بلکہ یہ معنی ہوتے ہیں کہ اس کا جسم گھل چکا ہوتا ہے اور جان آسانی نکل جاتی ہے۔جیسے بوسیدہ دانت گلے سرے مسوڑھوں سے آسانی کے ساتھ الگ ہو جاتا ہے۔بلکہ بعض دفعہ روٹی کھاتے ہوئے لقمہ میں آجاتا ہے۔اسی طرح وہ انسان جس کا جسم گھل چکا ہوتا ہے جب عزرائیل اس کی جان نکالنے آتا ہے تو بوسیدہ اور ہلے ہوئے دانت کی طرح آسانی کے ساتھ اسے الگ کر لیتا ہے لیکن جس کا جسم مضبوط ہوتا ہے اسے جان کنی کی سخت تکلیف ہوتی ہے او ہے اور دوسری وجہ تکلیف کی یہ ہے کہ دنیا سے شدید محبت ہو یا دنیا میں اس کے سپرد کوئی ایسا اصلاح کا کام ہو جس کا چھوڑنا اس پر اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ دوسروں کی اصلاح کے خیال سے شاق گزرتا ہو۔غرض حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں پہلے یہی سمجھتی تھی جیسے آج کل عوام میں خیال پایا جاتا ہے کہ جس کی جان تکلیف سے نکلتی ہے وہ بُرا ہوتا ہے۔اور جس کی جان آرام سے نکلتی ہے وہ نیک ہوتا ہے۔مگر جب رسول کریم صلی کم کی جان کنی کی تکلیف کو میں نے دیکھا تو اس خیال سے توبہ کی اور میں نے سمجھا کہ اس کا تعلق ایمان کے ساتھ نہیں ہے۔تو اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء کو دنیا میں تکالیف پہنچی ہیں www۔