خطبات محمود (جلد 22) — Page 282
1941ء 283 خطبات محمود میں نے نہیں دیکھا، میں یہی سمجھتی تھی کہ جسے جان کنی کے وقت شدید تکلیف ہو اس کا ایمان کمزور ہوتا ہے۔ مگر جب میں نے رسول کریم صلی الم کی جان کنی کی تکلیف دیکھی تو میں نے اپنے اس خیال سے توبہ کی اور میں نے سمجھا کہ جان کنی کی تکلیف کا ایمان سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔2 سے ہو ہمارے ملک میں بھی عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جسے جان کنی کے وقت زیادہ تکلیف ہو وہ برا آدمی ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ تکلیف جسمانی طاقت کے لحاظ ہوتی ہے۔ کوئی شخص بہت مضبوط اور قوی ہوتا ہے اور کوئی کمزور اور اور نحیف ہوتا ہے۔ اب یہ بات ظاہر ہے کہ قوی چیز میں کوئی چیز گڑی ہوئی ہو تو اس کا نکالنا مشکل ہوتا ہے اور کمزور میں سے اس کا نکالنا آسان ہوتا ہے۔ مثلاً کسی کے مسوڑھے کمزور اور گلے سڑے ہوں اور ان میں پیپ پڑی ہوئی ہو تو ایسے مسوڑھوں میں سے دانت آسانی سے نکل آئیں گے لیکن جس شخص کے مسوڑھے مضبوط اور قوی ہوں اور اس کے دانتوں کی جڑیں مسوڑھوں کی عمدگی کی وجہ سے مضبوط ہوں تو ڈاکٹر بعض دفعہ کئی کئی منٹ زور لگا کر اس کے دانت نکالتے ہیں۔ اب اگر جس شخص کا آسانی سے دانت نکل آئے اس کے متعلق کوئی کہنا شروع کر دے کہ اس کا دانت اس لئے آسانی سے نکلا تھا کہ وہ نیک تھا اور جس کا تکلیف سے دانت نکلے اس کے متعلق کہنا شروع کر دے کہ اس کا دانت اس لئے تکلیف سے نکلا تھا کہ وہ بُرا تھا تو یہ اس کی غلطی ہو گی۔ کیونکہ اس کا تعلق کسی کی نیکی یا بدی کے ساتھ نہیں بلکہ مسوڑھوں کی مضبوطی یا کمزوری کے ساتھ ہے۔ وہ شخص جس کا دانت آسانی سے نکل آیا تھا اس کے مسوڑھے گلے سڑے تھے اور وہ جس کا دانت تکلیف سے نکلا اس کا جسم تندرست اور مسوڑھے مضبوط تھے۔ جب مضبوط مسوڑھوں میں سے دانت نکالا جائے گا تو لازماً زیادہ زور لگے گا اور جب کمزور مسوڑھوں میں سے دانت نکالا جائے گا تو زور کم لگے گا۔ جیسے کیچڑ میں اگر کیلا گڑا ہوا ہو تو ایک بچہ بھی آسانی سے اسے نکال سکتا ہے لیکن اگر پتھر میں گڑا ہوا ہو تو ایک مضبوط جوان بھی اسے نہیں نکال سکتا۔