خطبات محمود (جلد 22) — Page 281
خطبات محمود 282 * 1941 کرتے ہیں۔اسی طرح اس کے پاؤں خدا کے پاؤں ہو جاتے ہیں، اس کی آنکھیں خدا کی آنکھیں ہو جاتی ہیں ا جاتی ہیں اور اس کی زبان خدا کی زبان ہو جاتی ہے۔ایسا انسان جب کسی ملک میں جاتا ہے تو وہاں خدا تعالیٰ کی برکتیں نازل ہونی شروع ہو جاتی ہیں اور جب بات کرتا ہے تو زمین و آسمان میں تغیر پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور جب ہاتھ اٹھاتا ہے تو اس کے ساتھ ہی آفاق میں تغیر رونما ہونے لگ جاتا ہے۔اس لئے کہ اس نے اپنے ہاتھ معطل کئے ہوئے ہوتے ہیں، اس نے اپنے پاؤں معطل کئے ہوتے ہیں اور اس نے اپنی زبان معطل کی ہوئی ہوتی ہے اور جو کچھ اس سے صادر ہوتا ہے وہی خدا تعالیٰ کا منشاء اور اس کا ارادہ ہوتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جس پر پہنچ کر انسان دنیا کے مصائب اور ابتلاء سے اس رنگ میں محفوظ ہو جاتا ہے کہ وہ اسے کچل نہیں سکتے۔یہ نہیں کہ ایسے انسان پر مصیبتیں نہیں آتیں یا بیماریاں نہیں آتیں یا دشمن اسے یہ تکلیفیں نہیں پہنچاتے یا حکومتیں اسے گرفتار یا قید نہیں کرے ہے بیماریاں بھی آتی ہیں، مصیبتیں بھی آتی ہیں، دشمن بھی ستاتے ہیں کچھ ہوتا اور حکومتیں بھی گرفتار کرتی اور قید کرتی ہیں۔چنانچہ دیکھ لو حضرت عیسی علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نبی تھے مگر گورنمنٹ نے ان کو گرفتار کیا قید میں رکھا اور پھر پھا پھانسی لٹکا دیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے رسول تھے مگر فرعون کے مقابلہ میں انہیں اپنا ملک چھوڑنا پڑا۔رسول کریم صلی املی کمک خدا تعالیٰ کے سب سے زیادہ مقرب اور رسول اور تمام نبیوں کے سردار تھے مگر آپ کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا۔اسی طرح آپ کو مارا گیا، آپ کو پیٹا گیا، آپ کو زخم بھی لگے، آپ کے دانت بھی شہید ہوئے اور آپ پر ایسا وقت بھی آیا کہ آپ ایک گڑھے میں گر گئے اور کئی صحابہ کی لاشیں گئے پر آ پڑیں اور کفار نے یہ خیال کر کے خوشیاں منائیں کہ آپ فوت ہو ہیں۔پھر آپ بیمار بھی ہوئے اور بعض دفعہ لمبے عرصہ تک بیمار رہے۔جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔اسی طرح وفات کے وقت آپ کو اتنی شدید تکلیف ہوئی کہ حضرت الله سة عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب تک رسول کریم صلی الل علم کی جان کنی کی تکلیف کو