خطبات محمود (جلد 22) — Page 279
1941ء 280 خطبات محمود دن بہت تھوڑے رہ گئے ہیں اس لئے میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس چندہ کو جلد سے جلد ادا کرنے کی کوشش کریں۔ یہ چندہ جیسا کہ میں نے بار بار توجہ دلائی ہے طوعی ہے۔ اس میں کسی پر جبر نہیں کیا جاتا، کوئی تعیین نہیں ہوتی، کوئی زور نہیں دیا جاتا بلکہ ہر شخص اپنی مرضی، اپنی خواہش، اپنے ظرف اور اپنے ایمان کی وسعت کے مطابق چندہ لکھواتا ہے۔ ہزاروں ہزار ہماری جماعت میں ایسے لوگ موجود ہیں جو تحریک جدید میں چندہ نہیں لکھواتے اور انہوں نے سات سالوں میں سے ایک سال میں بھی حصہ نہیں لیا مگر ان کو کوئی بُرا نہیں کہتا اس لئے کہ یہ فرضی چندہ نہیں کہ اگر کوئی شخص اس میں اپنا وعدہ نہ لکھائے تو اسے کہا جائے کہ اس نے جماعت کے فرائض نہیں کیا بلکہ جو شخص بھی چندہ دیتا یا چندہ ادا کرنے کا وعدہ کرتا ہے وہ اپنی خوشی سے یہ ذمہ داری اپنے اوپر عائد کرتا ہے اور اس لئے کرتا ہے تا نوافل کے ثواب میں وہ شریک ہو جائے۔ کو ادا رسول کریم صلی السلام فرماتے ہیں کہ انسان نوافل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ ہر حرکت جو وہ خدا تعالیٰ کی طرف کرتا ہے اس کے جواب میں خدا اس سے زیادہ حرکت کرتا ہے اگر وہ ایک قدم چلتا ہے تو خدا دو قدم چل کر آتا ہے اور اگر وہ تیز چلتا ہے تو خدا دوڑ کر اس کی طرف آتا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا اسی طرح بندہ خدا کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ خدا اس کے ہاتھ بن جاتا ہے جن سے وہ پکڑتا ہے اور خدا اس کی آنکھیں بن جاتا ہے جن سے وہ دیکھتا ہے اور خدا اس کے پاؤں بن جاتا ہے جن سے وہ چلتا ہے۔1 گویا ایسے بندے اور خدا کے درمیان ایسا اتصال اور اتحاد پیدا ہو جاتا ہے کہ اس کی خواہشات خدا تعالیٰ کی خواہشات ہو جاتی ہیں کوئی بندہ خدا نہیں بن سکتا۔ بندہ بندہ ہی ہے اور خدا خدا ہی۔ مگر الوہیت