خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 269

* 1941 270 خطبات محمود تو بے شک ہوں یہ حصہ جس میں نبی کا لفظ مسیح موعود کے لئے بولا گیا ضعیف نہیں ہو سکتا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود اسے استعمال فرمایا ہے۔پیغامی کہتے ہیں کہ یہ لفظ جو ہے اس کے کچھ اور معنی ہیں۔ہم کہتے ہیں بہت اچھا ہم مان لیتے ہیں کہ آپ نے یہ لفظ مجدد یا محدث کے معنوں میں استعمال فرمایا اور فرض کر لیتے ہیں کہ ان معنوں میں یہ لفظ استعمال ہو بھی سکتا ہے مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا آنے والے مسیح کے لئے آپ نے کہیں مجدد کا لفظ بھی بولا ہے کہ دنیا میں بعض اوقات بعض الفاظ استعارہ کے رنگ میں استعمال کر لئے جاتے ہیں مثلاً بہادر کو شیر ، سخی کو حاتم کہہ لیا جاتا ہے مگر جن کے متعلق استعارہ استعمال ہو اس کا اصلی نام بھی تو لیا جاتا اور حقیقی مرتبہ بھی تو بیان کیا جاتا ہے۔سخی کو بے شک حاتم کہہ دیتے ہیں مگر اس کا اصلی نام بھی تو لیتے ہیں۔اسی طرح مان لیا کہ آنے والے مسیح کے متعلق آپ نے نبی یا رسول کا لفظ استعارہ کے طور پر استعمال فرمایا اور اس کے معنی مجدد کے ہیں مگر کیا آپ نے اپنی ساری نبوت کے زمانہ میں ایک دفعہ بھی آنے والے مسیح کے لئے مجدد کا لفظ بولا؟ آپ نے تمام عرصہ ہے؟ ہے ایک ہی لفظ استعمال فرمایا اور وہ نبی کا تھا۔یہ اگر استعارہ تھا تو اس کا مطلب کہ آپ نے ساری عمر آنے والے کے اصل مرتبہ کا ذکر ہی نہیں فرمایا۔اور اس طرح نَعُوذُ بِاللهِ خود لوگوں کی گمراہی کے سامان کر دیئے کہ استعارہ ہی استعارہ استعمال کیا۔حقیقت اور اصلیت کا ذکر تک بھی نہ کیا۔ایک جگہ بھی آنے والے کے حقیقی مقام کا ذکر نہ کیا۔ایک ہی جگہ اس کا مرتبہ بیان فرمایا اور وہیں اسے نبی اللہ قرار دیا۔اگر بحث سے الگ ہو کر اور آنحضرت صلی علیم کے بلند مقام کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے نبی اللہ فرمانے کے معنی ہی یہ ہیں کہ آنے والا نبی ہو گا۔اگر اس کا اور کوئی مفہوم ہوتا تو آب دوسری جگہ اس کے صحیح مرتبہ کا بھی تو ذکر فرماتے۔آنحضرت صلی ا ہم نے استعارات بھی استعمال فرمائے ہیں مگر ایسی چیزوں میں جن کا ایمان سے تعلق نہیں۔ہے شک