خطبات محمود (جلد 22) — Page 251
1941 252 خطبات محمود سکھوں نے سوچی اور نہ مسلمانوں نے کہ یہ ممکن بھی ہے کہ احمدی سکھوں پر حملہ کر سکیں۔ہندوستان میں انگریزوں کی اتنی بڑی طاقت کی موجودگی میں ۵۶ ہزار احمدی تیس لاکھ سکھوں پر حملہ کر کیسے سکتے ہیں۔مگر افسوس ہے کہ کسی نے بھی اس فریب کو نہ سمجھا۔مسلمانوں پر زیادہ افسوس اس لئے ہے کہ یہ اسلامی شعار کا سوال تھا۔سکھوں نے پہلے تو یہ دھمکیاں دیں کہ ہم یہاں مذبیح بننے نہ دیں گے اور اگر بنا تو گرا دیں گے اور اس طرح ساری قوم میں یہ احساس پیدا کیا کہ ہم مذبح گرا سکتے ہیں۔مگر مسلمان محض ہماری مخالفت کی وجہ سے سکھوں کی تائید کر رہے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ہمارے ساتھ دشمنی کرنے کے جوش میں وہ اپنے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں اور ان پر وہی مثال صادق آتی ہے کہ پرائی بدشگونی میں اپنی ناک کٹوانا اور اس طرح یہ مسلمان اخبار پنجاب میں مسلمانوں کے لئے کانٹے بو رہے ہیں اور مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ ایسی باتوں سے ملک کو بھی نقصان پہنچے گا۔یہ ایسا وقت ہے کہ اپنے جذبات کو دبانا چاہئے اور تمام طاقت ملک کی حفاظت کی تدابیر پر صرف کرنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ سے ایسی دعائیں کرنی چاہئیں کہ زمین و آسمان بل جائیں۔اگر دوسرے لوگ اپنے فرض سے غافل ہیں تو کم سے کم ہماری جماعت کو چاہئے کہ ایسی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعاؤں میں لگی رہے۔رسول کریم صلی یا نیلم نے فرمایا ہے کہ یتیم کے دل سے نکلی ہوئی دعا عرشِ الہی کو ہلا دیتی ہے اور ہم سے زیادہ یتیم آج کون ہے جن کے پیچھے ساری دنیا پڑی ہوئی ہے۔ہم بھی اگر دعا کریں تو ضرور عرش الہی ہلے گا مگر شرط یہی ہے کہ دعا دل سے نکلی ہوئی ہو اور ہم دعا کرنا جانتے ہوں۔اناڑی کی طرح نہ کیونکہ اناڑی جب ہتھیار لے کر کھڑا ہو تو دوسرے کو مارنے کے بجائے اپنے کو زخمی کر لیتا ہے۔پس دعا بھی ایک فن ہے جو ہمیں سیکھنا چاہئے اور اس کے مطابق دعا کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کی مختلف صفات ہیں اور انسان کی ضرورت جس صفت سے متعلق ہو اسی کا نام لے کر دعا کرنی چاہئے۔جو شخص اس طرح دعا مانگتا ہے