خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 25

خطبات محمود 25 $1941 جو لوگ صرف خدام الاحمدیہ کے نظام کے ماتحت باجماعت نمازیں ادا کرتے ہیں میں ان سے کہتا ہوں کہ تم اپنے اندر ایسا ایمان پیدا کرو کہ اگر دنیا کی سطح سے خدام الاحمدیہ کا وجود مٹ جائے تب بھی تم نماز باجماعت ادا کرنے میں کبھی غفلت سے کام نہ لو۔اور جو لوگ اس فریضہ کی ادائیگی میں کوتاہی سے کام لینے کے عادی ہیں ان سے میں کہتا ہوں کہ روزانہ پانچ وقت خدا تعالیٰ تمہارا امتحان لیتا ہے اگر تم بغیر کسی معقول غذر کے باجماعت نمازیں ادا کرنے میں سُستی سے کام لیتے ہو اور اگر تمہارے دنیوی مشاغل اس فریضہ کی ادائیگی میں روک بنتے ہیں تو تم سمجھ لو کہ کس طرح تم روزانہ پانچ وقت اپنی شکست اور ایمان کی کمزوری کا اقرار کرتے ہو۔ہر مومن جو پانچ وقت تمہارے گھر کے دروازے یا دکان کے قریب سے اور نماز کے لئے گزرتا ہے اور تمہیں نماز کے لئے اٹھتے نہیں دیکھتا وہ اس یقین وثوق سے تمہارے گھر یا دکان کے پاس سے گزرتا ہے کہ یہاں ایک منافق رہتا ہے پرواہ۔تو جسے رسول کریم صلی الی ایم نے بھی منافق قرار دیا ہے۔تم بعض دفعہ جب تمہیں کوئی منافق کہتا ہے تو اس سے لڑ پڑتے ہو مگر تمہیں خود ہی سوچنا چاہئے کہ جب محمد صلی علیکم کے منافق کہنے سے تم نہیں گھبراتے تو ہمارے منافق کہنے سے تم کیوں گھبراتے ہو۔اِس سے تو معلوم ہوا کہ محمد صلی ال ولیم کی قدر تمہارے دلوں میں کچھ نہیں مگر ہماری قدر تمہارے دل میں ہے۔کیونکہ محمد صلی الی ایم کے منافق کہنے کی تو تمہیں کوئی نہیں ہوتی لیکن اگر کوئی اور معمولی حیثیت والا آدمی تمہیں منافق کہتا تمہارے تن بدن میں ایک آگ سی لگ جاتی ہے اور کہنے لگ جاتے ہو کہ وہ بڑا ہے۔دوسرے لفظوں میں اس کا یہ مطلب ہے کہ محمد صلی السلام کی حیثیت تمہارے دلوں میں اس ادنی ترین آدمی کی حیثیت سے بھی کم ہے کیونکہ جس کی وقعت انسانی قلب میں ہوتی ہے اُسی کی ناراضگی سے خوف کھاتا ہے۔ایک چھوٹا بچہ گالی دے تو انسان مسکراتا ہوا گزر جاتا ہے لیکن اگر کوئی بڑا آدمی گالی دے تو دوسرا شخص چلتے چلتے ٹھہر جاتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے کہ میں نے تمہارا کیا بگاڑا تھا کہ جھوٹا