خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 243

* 1941 244 خطبات محمود محبت رکھتے ہیں اور شیعہ بھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے:۔خاکم نثار کوچه آلِ محمد است ہے یعنی میری جان آلِ محمد کے کوچہ پر نثار ہے اور اس سے بڑھ کر محبت کیا سکتی ہے ؟ در حقیقت دونوں میں کوئی بڑا جھگڑا نہیں، کوئی خاص لڑائی نہیں مگر پھر بھی اختلاف کس قدر بڑھا لیا ہے۔اسی سفر کے دوران کراچی کے ایک شیعہ رئیس سے ایک دوست کسی کام کے سلسلہ میں ملنے گئے۔وہ مذہباً شیعہ ہیں مگر متعصب بالکل نہیں ہیں۔اس وقت ایک شیعہ ایڈیٹر ان سے ملنے کے لئے باہر بیٹھے تھے۔انہوں نے ہمارے دوست سے کہا کہ میں نے اس شخص کو بہت سمجھایا ہے یہ روز شور مچاتا رہتا ہے کہ فلاں سنی کو شیعہ نے سلام کیوں کہہ دیا اور ایسی ہی معمولی : باتوں کے جھگڑے پیدا کرتا رہتا ہے۔میں نے اسے کئی دفعہ کہا ہے کہ میں بھی شیعہ ہوں مگر مجھے ان باتوں پر کوئی غصہ نہیں آتا۔باغ فدک 1 پر تمہارا بڑا جھگڑا مگر جن سنیوں نے وہ لیا تھا وہ تو اب ہیں نہیں۔موجودہ سٹی ان کی اولاد بھی نہیں ہیں۔اس لئے اس واقعہ کی وجہ سے ان کے ساتھ دشمنی کے کیا معنی ہو سکتے ہیں؟ لیکن اگر بہر حال تم لوگوں نے جھگڑا جاری ہی رکھنا ہے تو باغ فدک کی قیمت ڈلوا لو اور وہ مجھ سے لے لو اور پھر اس جھگڑے کو ختم کر دو۔تو در حقیقت یہ سب جھگڑا معمولی باتوں پر ہی ہے اور یو نہی دست و گریباں ہو رہے ہیں۔یہی حال احمدیوں اور غیر احمدیوں کا ہے۔بہے شک دونوں میں اختلاف ہے مگر ایسا نہیں جیسا ہندوؤں اور سے ہے۔ہندو اور سکھ تو رسول کریم صلی ا ورم کو نَعُوذُ بِاللهِ جھوٹا سمجھتے ہیں۔قرآن کریم کو نہیں مانتے، احکام اسلام کو جھوٹا سمجھتے ہیں، اسلامی تمدن اور اس کے اقتصادی نظام کے خلاف ہیں مگر احمدیوں اور غیر احمدیوں میں ایسا اختلاف نہیں لیکن پھر بھی مسلمان مذہبی باتوں میں بھی ہمارے مقابلہ میں غیروں کا ساتھ دیتے ہیں۔قرآن کریم میں بھی ایسے لوگوں کا ذکر ہے۔مشرکین یہود کو مسلمانوں پر ترجیح دیتے تھے حالانکہ مسلمان حج بیت اللہ کے قائل اور حضرت اسماعیل اور ان کی اولاد کی سکھوں