خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 212

1941 ء 213 خطبات محمود بادل برس نہ جاتا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی محبت آپ میں ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ ایک دفعہ بادل کچھ عرصہ تک رکے رہے اور بارش نہ ہوئی۔ کچھ مدت کے بعد ایک دن آسمان پر بادل چھایا، کڑکا ہوا اور بارش کا ایک چھینٹا پڑا۔ آپ صحن میں تشریف لائے اور اپنی زبان نکال کر اس پر بارش کا چھینٹا لیا اور فرمایا کہ یہ میرے رب کا تازہ فضل ہے۔ 2- یہ ہے مومن کی علامت جس کے نتیجہ میں خدا کا فضل نازل ہوتا اور انسان اس کے غضب سے بچ جاتا ہے۔ مگر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے بڑے بڑے فضلوں کی کوئی قدر نہیں کرتا جو امن کے بیسیوں سالوں کی اتنی بھی الله قیمت نہیں سمجھتا جتنی رسول کریم صلی الہ ہم نے بارش کے ایک قطرہ کی قیمت سمجھی اسے اللہ تعالیٰ کے غضب سے ڈرنا چاہئے۔ رسول کریم صلی ال تیم تو بادل کی ایک کڑک سے خوف زدہ ہو جاتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ ایسا نہ ہو کہ اس کڑک کے پیچھے اللہ تعالیٰ کا کوئی غضب مخفی ہو مگر تم وہ ہو کہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہزاروں لوگ ہلاک ہو رہے ہیں، ہزاروں شہر برباد ہو رہے ہیں، ہزاروں جانیں ضائع جا رہی ہیں، بڑی خوفناک تباہی اور بربادی ہے جو دنیا پر چھائی ہوئی ہے۔ مگر تمہیں اس کی ذرہ بھی پرواہ نہیں اور تم اس دن کا انتظار کر رہے ہو جب تمہارے شہروں پر بم گریں، تمہارے گھر برباد ہوں، تمہارے بیٹے ہلاک ہوں اور تم خود اپنی آنکھ سے ان نظاروں کو دیکھو۔ پس یہ دن بڑی تباہی اور بربادی کے ہیں اور ان میں بڑی خشیت اور بڑی انابت سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ مومن کو یہ ہرگز نہیں دیکھنا چاہئے کہ یہ بلا اس پر نہیں بلکہ دوسروں پر وارد ہے۔ کیا محمد صلی الم نے بادل دیکھ کر گھبراہٹ اس لئے ظاہر کی تھی کہ آپ نَعُوذُ بِاللهِ ڈرتے تھے کہ کہیں خدا تعالیٰ کا عذاب مجھ پر نازل نہ ہو جائے۔ آپ جانتے تھے کہ عذاب اگر نازل ہو گا تو دوسروں پر ہی ہو گا۔ مگر آپ یہ بھی جانتے تھے کہ میں بھی اسی دنیا میں ہوں جس میں میرے دوسرے بھائی ہیں اس لئے آپ گھبراتے تھے اور اضطراب کے عالم میں کبھی کمرہ کے اندر تشریف لے جاتے