خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 211

1941 ء 212 خطبات محمود فرشتے ایسے شخص کی فریاد خدا تعالیٰ تک پہنچا کر اس کی سفارش کرتے ہوں گے اور کہتے ہوں گے کہ اس کے بچے کا پیٹ درد دور ہو جائے وہ تو اس پر لعنتیں ڈالیں گے کہ بدبخت تو نے دوسروں کی موت کو تو بے حقیقت سمجھا اور اپنے بیٹے کے پیٹ درد پر شور مچاتا ہے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی اس پر برکت نہیں بلکہ لعنت نازل ہو گی کیونکہ وہ دوسروں کی تکالیف سے تو متاثر نہ ہوا اور اپنی معمولی سی تکلیف نے بھی اسے بے چین بنا دیا۔ پس مومن کو ہمیشہ اپنے اندر خشیت اللہ پیدا کرنی چاہئے او رجب دنیا میں صا سر صد سر سے زیادہ آفات آئیں تو ان سے ڈر جانا چاہئے۔ ہم میں سے کون ہے جو محمد صلی العلیم خدا تعالیٰ کے عذابوں سے محفوظ ہو اور ہم میں سے کون ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا رسول کریم صلی الم کی طرح وارث ہو ؟ ہم تو عشر عشیر کیا ہزارویں بلکہ ملنی علیروم لاکھویں حصہ کے برابر بھی اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں کے وارث نہیں ہو سکتے جن فضلوں کے رسول کریم صلی علی یم وارث ہیں اور نہ ہم عذابوں سے اس طرح محفوظ ہیں جس طرح رسول کریم صلی الل علمی محفوظ تھے مگر رسول کریم صلی الم کی شان دیکھو جب بادل آتے، بجلی چمکتی اور بادل گرجتے تو آپ گھبرا کر کبھی اپنے کمرہ کے اندر تشریف لے جاتے اور کبھی باہر نکلتے۔ ایک دفعہ کسی نے پوچھا یا رَسُولَ اللہ ! یہ آپ کیا کرتے ہیں کہ بادل آنے پر آپ گھبرا کر کبھی کمرہ کے اندر تشریف لے جاتے ہیں اور کبھی باہر آتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ایسے ہی بادلوں سے کبھی کبھی خدا تعالیٰ کا غضب نازل ہو جاتا ہے ۔ غور کرو کتنی بڑی خشیت الہی ہے جو آپ کے قلب میں تھی حالانکہ آپ خدا تعالیٰ کے نبی تھے اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے ڈرانے آئے تھے۔ اگر بالفرض عذاب نازل بھی ہوتا تو وہ وہ دوسروں کے لئے عذاب ہوتا آپ کے لئے نہیں۔ مگر وہ جن پر عذاب نازل ہو سکتا تھا وہ تو اپنے گھروں میں مطمئن بیٹھے رہتے تھے اور وہ جس کی تائید کے لئے غضب الہی نازل ہونا تھا وہ گھبرا کر کبھی اندر جاتا اور کبھی باہر آتا اور اس وقت تک گھبراہٹ دور نہ ہوتی جب تک وہ