خطبات محمود (جلد 22) — Page 210
1941 211 خطبات محمود نماز جنازہ کے لئے اکٹھے ہوتے تو ایک شخص صفوں میں کودتا پھرتا اور کہتا کہ لوگ بس کھاتے ہیں اور کھاتے چلے جاتے ہیں ذرا پر ہیز نہیں کرتے۔ہمیں دیکھو ہم تو بس ایک پھلکا کھاتے ہیں مگر لوگ ہیں کہ کھانے بیٹھتے ہیں تو ٹھونستے چلے جاتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہیضہ سے مر جاتے ہیں۔اب بجائے اس کے کہ اس کے دل میں جنازہ کو دیکھ کر خشیت پیدا ہوتی یا بجائے اس کے کہ اس کے دل میں مرنے والے کے اعزاء و اقرباء کے متعلق ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے اور اسے خیال آتا کہ مجھے اس کے بیٹوں بھائیوں یا دوسرے رشتہ داروں کی دلجوئی کرنی چاہئے وہ اور زیادہ ان کے زخموں پر نمک پاشی کرتا اور کہتا کہ یہ بڑا کھاؤ پیو اور بد پر ہیز ہو گا تبھی ہیضہ سے ہلاک ہوا۔آخر جس شخص کی لاش پڑی ہوئی ہوتی لازماً جنازہ میں زیادہ تر اسی کے رشتہ دار ہوتے ہوں گے۔انہیں کیسی تکلیف ہوتی ہو گی کہ ایک تو ہمارے ہاں موت ہو گئی اور دوسرے ہمیں یہ سننا پڑا کہ وہ بڑا لالچی، حریص اور کھاؤ پیو تھا۔آخر کچھ دنوں کے بعد ایک لاش آئی اور جنازہ کے لئے لوگ جمع ہوئے کسی نے پوچھا کہ یہ کس کا جنازہ ہے؟ انہی لوگوں میں ایک دل جلا بھی بیٹھا تھا وہ کہنے لگا یہ اس ایک بُھل کا کھانے والے کا جنازہ ہے۔تو جس قسم کا فقرہ کوئی شخص دوسروں کی مصیبت کے وقت استعمال کرتا ہے ویسا ہی فقرہ خدا تعالیٰ کے فرشتے اس کے لئے اس وقت استعمال کرتے ہیں جب وہ خود کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے۔پھر وہ لوگ جو دوسروں کی مصیبت پر خوش ہوتے ہیں خود ان کی اپنی یہ ہوتی ہے کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ حد سے زیادہ اس مصیبت پر شور مچانے اور چیخنے چلانے لگ جاتے ہیں۔ایک بے درد اور ظالم انسان جب دوسروں کے متعلق یہ سن کر کہ وہ لڑائی میں تباہ اور برباد ہوتے جا رہے ہیں خوش ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ خوب ہوا۔اس کا اپنا بیٹا جب پیٹ درد سے بیمار ہوتا ہے تو سارے محلہ کو وہ اپنے سر پر اٹھا لیتا ہے اور کہتا ہے ہائے میں مر گیا میرے پیٹ میں درد ہے جو اچھا ہونے میں نہیں آتا۔اب کیا تم سمجھتے ہو کہ خدا تعالیٰ کے حالت